پاکستان میں ہندو طلبا کی طرف سے افطاری کا انتظام

   

Ferty9 Clinic

کراچی ۔29 اپریل ۔( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستانی شہر کراچی میں کورونا وائرس کی وجہ سے عائد جزوی لاک ڈاؤن کے دوران رمضان میں ہندو برادری کے نوجوان راہ چلتے مسافروں، سکیورٹی گارڈز اور دیہاڑی دار مزدوروں میں افطار باکسز تقسیم کر رہے ہیں۔ پاکستان میں صوبہ سندھ کے شہر کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں گزشتہ روز روزہ کھلنے سے قبل چند ہندو نوجوانوں نے شاہراہوں پر افطار باکسز تقسیم کیے۔ ان نوجوان طالب علموں کا تعلق ہندو یوتھ کونسل سے ہے۔ وہ مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے غرض سے رمضان میں مسلمان برادری کے درمیان افطار باکسز بانٹ رہے تھے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ہندو یوتھ کونسل کے فعال سماجی کارکن وشال آنند نے بتایا کہ کراچی کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہندو طالب علموں نے رضاکارانہ طور پر اپنے خرچے سے دو سے تین سو افراد کی افطاری کا بندوبست کیا ہے۔رمضان میں کورونا لاک ڈاؤن کی بندشوں کی وجہ سے زیادہ تر مساجد میں بھی اجتماعی افطار کا اہتمام نہیں کیا جا رہا۔

لہٰذا ان ہندو رضاکاروں کیلئے بھی ایک مقام پر مل کر افطاری کا بندوبست کرنا ناممکن تھا۔ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم بھشم کمار نے بتایا کہ گزشتہ چار سالوں سے انٹر فیتھ افطار کا اجتماعی دسترخوان سجایا جاتا ہے۔ تاہم اس مرتبہ انہوں نے کورونا وائرس کی عالمی وبا کی غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر ایک جگہ پر جمع ہونے کے بجائے، راہ چلتے مسافروں، سکیورٹی گارڈز، موٹر سائیکل پر سوار کھانا ڈلیور کرنے والے افراد اور افطار کے وقت محنت و مشقت میں مصروف افراد کو ہاتھوں میں باکسز دینے کا فیصلہ کیا۔انٹر فیتھ افطاری کے موقع پر موجود گلستان جوہر کے ایک رہائشی ارج مرزا کا کہنا ہے کہ وہ اس کار خیر میں خرچ کرنے والے ہندو طالب علموں کے شکر گزار ہیں کیونکہ وہ محبت اور امن کا پیغام دیتے ہوئے مسلمانوں کیلئے افطار کا بندوبست کر رہے ہیں۔ یہ نوجوان طالب علم ماہ رمضان میں ہر ہفتے پیر کے روزکراچی کے مختلف علاقوں اور شاہراہوں پر افطاری تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وشال کے مطابق پاکستان میں ہندووں کا شمار مذہبی اقلیت میں ہوتا ہے لیکن وہ خود کو برابر کا شہری سمجھتے ہوئے تمام مذہبی تہواروں میں شرکت کر کے امن اور یکجہتی کا پیغام دیتے ہیں۔