ابوظبی :سعودی عرب کے بعد اب پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے رشتے بھی کافی خراب ہوگئے ہیں۔ گزشتہ دنوں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے یو اے ای کے اسرائیل کے ساتھ دوطرفہ رشتے قائم کرنے کی شدید تنقید کی تھی۔ بتایا جارہا جارہا ہے کہ اس کی وجہ سے یو اے ای کافی ناراض ہے اور اس نے پاکستانیوں کو ویزا دینے میں بھی ٹال مٹول شروع کردی ہے۔ علاوہ ازیں پاکستانیوں کے سر پر یو اے ای سے بھگائے جانے کا بھی خطرہ منڈلا رہا ہے۔ایچ ٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق یو اے ای میں فلسطین حامی پاکستانی کارکنوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ اس علاوہ یو اے ای میں رہ رہے عام پاکستانی شہریوں کے تئیں بھی سختی برتی جارہی ہے اور انہیں چھوٹے چھوٹے جرم کیلئے بھی گرفتار کرکے جیل میں ڈالا جارہا ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق یو اے ای کی السیہوان جیل میں تقریبا 5,000 سے زیادہ پاکستانی بند ہیں۔ موصولہ جانکاری کے مطابق یو اے ای اب پاکستانی شہریوں کو ویزا دینے میں بھی ٹال مٹول کررہا ہے ، جس کے بعد ابو ظہبی میں موجود پاکستانی سفارت کار غلام دستگیر نے حکومت سے ملاقات کی درخواست کی تھی ، جس کو بھی مسترد کردیا گیا۔ بتایا جارہا ہے کہ پاکستانی خوفزدہ ہیں اور یو اے ای سے ڈیپورٹ کئے جانے کا ڈر بھی انہیں ستارہا ہے۔رپورٹ کے مطابق یو اے ای کے اس رویہ کے پیچھے صرف عمران خان کا بیان ہی نہیں ہے بلکہ ایسی جانکاریاں بھی مل رہی ہیں کہ سال 2017 میں قندھار میں ہوئے دہشت گردانہ حملے ، جس میں یو اے ای کے پانچ ڈپلومیٹ مارے گئے تھے کے تار بھی پاکستان سے جڑے ہیں۔