پاکستان چھوڑنے والے افغانی بے یارو مددگار

   

کابل : پاکستان سے بے دخل کیے گئے مہاجرین کو افغانستان میں گھر ڈھونڈنے میں دشواری ہو رہی ہے اور یہ ڈر بھی ہے کہ انہیں واپس جا کر روزگار تلاش کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان واقع طورخم کی سرحد اس وقت پاکستان سے ملک بدر کیے جانے والے افغان مہاجرین کا عارضی ٹھکانہ بنی ہوئی۔ وہاں چٹانی پہاڑوں کے دامن میں نیلے خیموں کی ایک کثیر تعداد نظر آتی ہے، جن میں افغان مہاجرین تپتی گرمی میں دن اور ٹھٹھرتی سرد راتیں گزارتے ہیں۔ سرحد پر موجود حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کے مہاجرین کو ملک چھوڑنے کے احکامات کے بعد سے اب تک کم از کم دو لاکھ دس ہزار مہاجرین طورخم کی سرحد پار کر کہ افغانستان جا چکے ہیں۔ ان میں سے کئی ایسے تھے جنہوں نے اگر اپنی پوری زندگی نہیں تو کئی دہائیاں افغانستان سے دور گزاری ہیں۔ افغانستان جانے سے قبل ان مہاجرین کو مدد کے طور پر15,000 افغانی، جو کہ افغانستان کی مقامی کرنسی ہے، دیے جا رہے ہیں۔ لیکن یہ رقم ایک ماہ سے زیادہ کسی خاندان کی کفالت کے لیے ناکافی ہے۔