اسلام آباد ۔ 25 مارچ (ایجنسیز) پاکستان نے منگل کے روز خبردار کیا کہ فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کا تشدد غیر معمولی سطح پر پہنچ گیا ہے اور اس بات کی نشاندہی کی کہ اسرائیل نے فلسطینی شہریوں کے تحفظ کیلئے قابض طاقت کے طور پر اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں جبکہ اسرائیلی آبادکاری کی سرگرمیاں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔سلامتی کونسل کی بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندہ سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ فلسطینیوں کے خلاف حملے حالیہ دنوں میں خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں اور فوری بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ کیا۔یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جبکہ شرقِ اوسط کو شدید عدم استحکام کا سامنا ہے۔پاکستان نے کہا کہ متعدد تہ در تہ بحرانوں کے باوجود ’’فلسطین کا حل طلب مسئلہ‘‘ بدستور علاقائی کشیدگی کا مرکز ہے جو دیرپا امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ پاکستان کے ایلچی نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ اقوامِ متحدہ کی منظم طریقے سے اس پہلو کی نگرانی شروع کرنے کے بعد سے حالیہ ہفتوں میں آباد کاروں کا تشدد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں، وہ اب اکّا دکّا واقعات کا معاملہ نہیں ہے بلکہ فلسطینی آبادی کے خلاف منظم، مربوط حملے ہیں۔ یہ قبضے کے ایک نظام کا براہِ راست نتیجہ ہے جسے استثنیٰ کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ملی ہوئی ہے۔ میں اس بات کی نشاندہی کرتا ہوں کہ اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے اور امن کی جاری کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، جامع منصوبے کے خلاف ہیں اور انصاف اور دیرپا امن کے حصول کے امکانات کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔احمد نے مقبوضہ مغربی کنارے میں حالیہ واقعات بشمول طمّون میں ایک فلسطینی خاندان کے قتل اور حملوں کی لہر کا حوالہ دیا جن میں گھر، مساجد اور گاڑیاں جلا دی گئیں اور عام شہری زخمی ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا، “قابض طاقت کے طور پر بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل فلسطینی شہریوں کے تحفظ کیلئے قانوناً ذمہ دار ہے۔اس ذمہ داری کی بلاجھجک خلاف ورزی ہو رہی ہے۔