پاکستان کا افغانستان کے تین صوبوں پر فضائی حملہ، 80 خوارج ہلاک

,

   

پاک ۔ افغان سرحد پر مبینہ دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنا نے کا دعویٰ‘ پاکستان میں خودکش حملو ں پرجوابی کارروائی

کابل۔22؍فروری( ایجنسیز)پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائی کے دوران ٹی ٹی پی کے سات ٹھکانے تباہ ہوئے جبکہ 80 سے زائد خوارج مارے گئے۔ فوجی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان کی جانب سے گزشتہ رات افغانستان میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایئراسٹرائیک کی گئی جس میں تین صوبوں ننگر ہار، پکتیکا اور خوست میں موجود فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے سات مراکز کو تباہ کیا گیا جبکہ 80 سے زائد خوارجی مارے جانے کی اطلاعات بالکل مصدقہ ہیں جبکہ ہلاکتیں بڑھنے کا امکان ہے۔علحدہ اطلاع کے مطابق پاکستانی فضائیہ نے افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے برمل ضلع میں ایک دینی مدرسے کو نشانہ بنایا۔ افغانستان کے چینل طلوع نیوز کے مطابق پاکستانی جیٹ طیاروں نے صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانی میں بھی کئی فضائی حملے کیے۔افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اتوار کو ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ پاکستان نے ننگرہار اور پکتیکا صوبوں میں ہمارے شہریوں پر بمباری کی جس میں خواتین اور بچوں سمیت کئی افراد ہلاک ہوگئے۔ پاکستان کی وزارت اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے میڈیا نے رپورٹ کیا کہ حملوں میں مبینہ فتنہ الخوارج، اس سے وابستہ تنظیموں اور داعش خراسان صوبہ (ڈی کے پی) کے سات کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ آپریشن رمضان المبارک کے دوران اسلام آباد، باجوڑ اور بنوں میں ہونے والے حالیہ خودکش حملوں کا جواب دیا گیا ہے۔میڈیا کے مطابق پاکستان کی وزارت دفاع نے الزام لگایا کہ اسلام آباد سمیت مختلف مقامات پر ہوئے خودکش بم دھماکے افغان قیادت اور ہینڈلرز کے کہنے پر کیے گئے اور یہ کہ ان حملوں کی ذمہ داری مبینہ طور پر افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش سے وابستہ تنظیموں نے قبول کی تھی۔اسلام آباد کے اس دعوے کے باوجود کہ اس نے افغان طالبان سے دہشت گرد گروپوں کو افغان سرزمین کو استعمال کرنے سے روکنے کی بارہا اپیل کی۔ اپنے بیان میں پاکستان نے کہا کہ وہ افغانستان کی عبوری حکومت سے توقع کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے گی۔پاکستان نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ افغان حکام پر دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔ ڈان کے مطابق پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ باجوڑ میں ایک مہلک حملے کے بعد سرحد پار سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان پاکستان اپنے شہریوں کی جانوں کے تحفظ کیلئے افغانستان کو نشانہ بنانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ڈان کے مطابق، پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پاکستان پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے اندر دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کی جائے۔ اس لیے جب تک یہ مطالبہ پورا نہیں ہو جاتا صبر کے ساتھ تمام آپشن کھلے رہیں گے۔