کولکتہ۔ پاکستان کی سیمی فائنل میں رسائی کسی کرشمے سے کم نہیں ہوگی کیونکہ اسے ناقابل تصور فرق سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے سیمی فائنل میں جگہ بنانا ہوگا جب کہ گزشتہ مقابلے میں شاندار کارکردگی سے بلند حوصلوں کی ٹیم انگلینڈ کی نظریں اس وقت چمپیئنز ٹرافی کے لیے رسائی حاصل کرنے مرکوز ہوگی۔ ہفتہ کو یہاں ورلڈ کپ میں دونوں ٹیمیں ٹکرائیں گی۔ نیوزی لینڈ کے نیٹ رن ریٹ میں سری لنکا کے خلاف پانچ وکٹوں کی جیت نے پاکستان کی سیمی فائنل کی امیدوں کو عملی طور پر چکنا چورکردیا ہے۔ 1992 کے چمپئنزکو اب انگلینڈ کو ایک ناممکن فرق سے شکست دینا ہے۔نیوزی لینڈ کا نیٹ رن ریٹ+0.743 ہے جبکہ پاکستان کا نیٹ رن ریٹ +0.036 ہے، اور بابر اعظم کی قیادت والی ٹیم کو چوتھی ٹیم کے طور پرکوالیفائی کرنے کے لیے ، اسے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے تقریباً 287 رنز سے جیتنا ہوگا۔ تعاقب کرتے ہوئے، پاکستان کو جیتنے کے لیے 284 گیندیں باقی رکھنی ہوگی ہیں یہ ایک ناقابل عمل کام ہے۔ دفاعی چمپئن انگلینڈ کے لیے ورلڈ کپ خطاب کے دفاع کا خواب شاید ابھی کچھ عرصے سے ختم ہوگیا ہو لیکن جوس بٹلرکی قیادت والی ٹیم 2025 کی چمپئنز ٹرافی میں رسائی کے لیے ٹاپ-8 میں جگہ بنانا چاہتی ہے۔ جیسا کہ حالات اب یہ ہیں کہ یہ بنگلہ دیش، سری لنکا ، ہالینڈ اور انگلینڈ کے ساتھ ساتھ چار طرفہ دوڑ ہے ۔گزشتہ میچ میں نیدرلینڈزکے خلاف ان کی 160 رنز کی کامیابی نے انگلینڈ کو انتہائی ضروری حوصلہ دیا ہے ۔ پاکستان کے خلاف جیت اس جگہ کو مہرثبت کردے گی، اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ بنگلہ دیش اور ہالینڈ دونوں کو بالترتیب آسٹریلیا اور ہندوستان جیسے سخت حریفوں کا سامنا ہے، اور ان کے پاس انگلینڈ سے کمتر رین ریٹ بھی ہے۔پاکستان کے بیٹرس اس ورلڈکپ میں توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہے ہیں لیکن زندہ ٓخری دو میچوں میں کچھ دیر سے ہی سہی بہتر مظاہرہ کیا ہے۔ ایڈن گارڈنز میں پہلے ہی دو میچز کھیلنے کے بعد پاکستان کو ان حالات کے بارے میں بہتر علم ہے جو درمیانی اوورزکے دوران سست اور اسپن دوستانہ رہا ہے ۔ نیوزی لینڈ کے خلاف پاور ہٹنگ کا شاندار مظاہرہ کرنے والے دھماکہ خیز اوپنر فخر زمان کی پانچ میچوں سے محرومی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ بائیں ہاتھ کے کھلاڑی نے پچھلے دو میچوں میں دکھایا ہے کہ وہ کیا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے بابر کے ساتھ مل کرگزشتہ میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف ڈی ایل ایس کی جیت میں 141 گیندوں پر194 رنز کے ناقابل شکست اتحاد میں یہ ثابت کیا کہ وہ کسی بھی بولنگ سے کامیابی سے نمٹ سکتے ہیں۔انگلینڈ کے خلاف ان سے ایک اور یادگار اننگز کی امید کی جارہی ہے ۔ دوسری جانب ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل ونڈے میں پہلے مقام پر فائز رہنے والے پاکستان کے کپتان بابر اعظم بھی امیدوں پر پورا نہیں اترسکے اور ایونٹ میں انہوں نے ایک بھی سنچری اسکور نہیںکی ہے حالانکہ ایک سے زیادہ مرتبہ وہ نصف سنچریاں اسکور کرچکے ہیں اور ان سے اب سنچری کی امید کی جارہی ہے ۔