پاکستان کو آج کینیڈا کے خلاف بڑی کامیابی کی ضرورت

   

نیویارک۔ امریکہ کے خلاف شکست کے صدمے میں مبتلا اور ہندوستان سے داغدار ناکامی کے بعد پاکستان کے پاس رواں ورلڈ کپ میں ثابت کرنے کیلئے بہت کم موقع ہے اور جب وہ منگل کو یہاں ٹی 20 ورلڈ کپ کے اپنے گروپ لیگ مقابلے میں کینیڈا سے ملیں گے تو اسکے لئے ایک بڑی کامیابی ضروری ہوگی ۔ اگر اپنے گروپ اے کے ابتدائی میچ میں شریک میزبانوں کے خلاف سوپر اوور میں ہارکافی نہیں تھی، تو پاکستان کو اتوارکو یہاں کم اسکور والے میچ میں روایتی حریف ہندوستان کے خلاف چھ رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کا سوپر ایٹ کوالیفائی کرنے کا موقع اب کینیڈا اور آئرلینڈ کے خلاف بڑی جیت پر منحصر ہے، اس کے علاوہ امید کرنا ہوگا کہ امریکی ٹیم ہندوستان اور آئرلینڈ سے بڑی شکست برداشت کرے ۔ یہاں تک کہ اس منظر نامے میں بھی، دونوں ٹیمیں چار چار پوائنٹس پر ختم ہوں گی اور یہ اہم ہوگا کہ کس ٹیم کا نیٹ رن ریٹ بہتر ہے۔ اس لیے پاکستان صرف بہترین رن ریٹ اور امریکہ کی شکست پر ہی اگلے مرحلے میں داخل ہوپائے گا۔ امریکہ دو فتوحات کے بعد +0.626 کے صحت مند رن ریٹ سے لطف اندوز ہورہا ہے اور آئرلینڈ کے خلاف صرف ایک فتح ہی کافی ہوگی اور وہ اگلے مرحلے میں داخل ہوجائے گا جبکہ پاکستان منفی0.150 کے مایوس کن رن ریٹ کے ساتھ نہ اسے باقی دو مقابلے جیتنا ہوگا بلکہ جامع فرق سے بھی کامیابی حاصل کرنی ہوگی تاکہ رن ریٹ بھی بہتر ہوسکے ۔ اب تک کے دو میچوں میں، 2009 کے چمپیئن نے کبھی بھی وہ مضبوط ٹیم نہیں دیکھی جس کے بارے میں پہلے جانا جاتا تھا۔اب تک دو میچوں میں پاکستان کے لیے ایک بھی شعبہ بہتر مظاہرہ نہیں کرسکا ہے اور انھیں اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لیے بقیہ میچوں میں مزید بہترین کوششوں کی ضرورت ہوگی۔ جبکہ بابر اور شاداب خان نے امریکہ کے خلاف 40 رنز کا اسکور بنا کر 7 وکٹوں پر 159 رنز بنائے، پاکستان ہدف کا دفاع کرنے میں ناکام رہا، میچ سوپر اوور میں ہار گیا۔ پھر 120 رنز کے آسان ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے کوئی بھی پاکستانی بیٹر بہتر مظاہرہ نہیں کرپایا جیسا کہ انہوں نے 59 ڈاٹ بالز کھیلتے ہوئے 7 وکٹوں پر 113 رنز ہی بناسکے۔فخر زمان، عماد وسیم، شاداب خان اور افتخار احمد نے غیر ذمہ دارانہ شاٹس کھیل کر ہندوستان کے خلاف نشانے کو مزید مشکل بنا دیا۔ محمد رضوان نے اپنے31 رنز بنانے کے لیے 44 گیندوں کا سامنا کیا، عماد وسیم نے اپنے 15 رنزکے لیے 23 گیندیں کھائیں۔اتوارکو پاکستان کے لیے واحد بہتر مظاہرہ نسیم شاہ (3/21) اور محمد عامر (2/23) کی بولنگ کا رہا ۔ لیکن اصل فاسٹ بولر شاہین کو پاکستان کی امیدوں کو برقرار رکھنے کے لیے بقیہ دو میچوں میں پہلے سے زیادہ ذمہ داری لینے کی ضرورت ہے۔ وہ مشکل سے سازگار حالات میں سوئنگ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ دوسری جانب کینیڈا گروپ اے میں دو میچوں میں سے ایک جیت کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ امریکہ سے سات وکٹوں کی شکست کے بعد کینیڈا نے اپنے اگلے میچ میں آئرلینڈکو 12 رنز سے شکست دے کر بہتر انداز میں واپسی کی۔ نونیت دھالیوال میں کینیڈا کے پاس ایک تجربہ کار ٹاپ آرڈر بیٹر ہے جو آئرلینڈ کے خلاف 2019 کی فتح کا حصہ تھا، اور ان پر بہت کچھ منحصر ہوگا۔کینیڈا بھی امریکہ کے خلاف شکست سے دلبرداشتہ ہے کیونکہ اس نے 194رنز کا ہمالیائی اسکور بنایا تھا لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکا۔ میچ رات 8 بجے شروع ہوگا۔