واشنگٹن : بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 6 بلین ڈالر کے قرض کی بحالی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کی معیشت کو تباہی سے بچانا اور اُسے مستحکم کرنا ہے۔آئی ایم ایف نے یہ اعلان ایک ایسے وقت پر کیا ہے جب پاکستان میں مہنگائی کی شرح کو دنیا بھر میں پائی جانے والی بلند ترین شرحوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال سے پاکستان میں نئے معاشی خطرات جنم لے رہے ہیں۔پاکستان نے 2019ء میں معیشت کو درپیش مشکلات سے بچانے کے لیے آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج حاصل کیا تھا تاہم قرضوں کی تین قسطوں کی فراہمی کے بعد اسے دو بار معطل کر دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ گذشتہ سال پانچ سو ملین ڈالر کی قسط فراہم کی گئی تھی۔ اُس کے بعد پاکستان کی طرف سے اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈا پر عمل درآمد کی ناکامی کے سبب آئی ایم ایف نے اسلام آباد کے لیے قرضے کی ادائیگی کو معطل کر دیا گیا تھا۔ پاکستانی حکام کے مطابق آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ نے توسیعی سہولت فنڈ کے تحت چھٹے جائزے کی منظوری کے بعد ایک ارب ڈالر قرضے کی قسط جاری کی ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے نئے معاشی اقدامات کیے گئے ہیں جن میں آئی ایم ایف فنڈ کے شرائط کو پورا کرنے کے لیے ٹیکس محصولات کو مزید سخت کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔دریں اثناء پاکستان کے وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ واشنگٹن میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ کی میٹنگ کے بعد پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر کی قسط کی ادائیگی کا اعلان سامنے آیا۔ شوکت ترین کے بقول، ”جنوبی ایشیا کی جوہری طاقت کو ایک نئی قسط موصول ہونے والی ہے۔‘‘اآئی ایم ایف کے اس تازہ اعلان سے پاکستان میں معاشی بحالی اور ترقی کی ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔