2021ء کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان نے شاندار کھیلا ۔ رواں سال بھی اچھی امید : وقار یونس
نئی دہلی : ایشیا کپ سے قبل پاکستان کے سابق تیز گیند باز وقار یونس نے روہت شرما اینڈ کمپنی کو خبردار کیا ہے۔ کرکٹ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے وقار نے کہا کہ پاکستان کی نئی ٹیم پچھلی ٹیموں کے مقابلے بڑے میچوں کے دباؤ کو سنبھالنے کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ پاکستان نے 2021 کے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ میں ہندوستان کو 10 وکٹوں سے شکست دے کر ورلڈ کپ میں ہندوستان کے ہاتھوں ہار کے سلسلہ کو توڑدیا تھا۔ وقار کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ٹیم اس بار بھی ہندوستان کو ہرا سکتی ہے، کیونکہ اس میں ٹیم انڈیا سے زیادہ میچ ونرز ہیں۔ وقار یونس نے آئی سی سی ٹورنامنٹس میں ہندوستان کے مقابلہ دباؤ کو بہتر طریقہ سے سنبھالنے کیلئے پاکستانی کھلاڑیوں کی موجودہ نسل کی تعریف بھی کی۔ وقار نے کرکٹ پاکستان سے کہا کہ ہمارے دور میں دباؤ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا جتنا کہ ابھی لگتا ہے۔ آپ کسی ٹیم کے خلاف جتنا کم کھیلیں گے، وہ بھی بڑی ٹیم کے خلاف خاص طور پر اگر یہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہے تو دباؤ تین گنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاید ہمارے زمانے میں یہ نسبتاً کم تھا کیونکہ ہم اپنے ابتدائی دنوں میں بہت زیادہ کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ لیکن پھر بھی ورلڈ کپ میں ہم ہندوستان کے خلاف ہار جاتے تھے۔ پھر بھی جیسا کہ میں نے کہا کہ آج کل کھلاڑی یقینی طور پر دباؤ کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں، یہ میچ ونرز، جن کا میں نے پہلے ذکر کیا ہے، ہمیں میچ جتائیں گے۔ وقار یونس نے مزید کہا کہ پاکستانی ٹیم کے پاس بہت سے میچ ونر کھلاڑی ہیں۔ بابر اعظم، شاہین آفریدی اور سلامی بلے باز فخر زمان ایسے ہیں جو اپنے بل بوتے پر جیت دلا سکتے ہیں اور ان کا ہندوستان کے خلاف اچھا ریکارڈ ہے۔ شاہین اور فخر کمال کر سکتے ہیں۔ ہم نے امام کو بھی شاندار اننگز کھیلتے دیکھا ہے۔ بس ٹیم کو اپنا پروسیس درست رکھنا ہوگا اور دباؤ میں بکھرنے سے بچنا ہوگا۔ ایشیا کپ میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کل 3 میچ کھیلے جا سکتے ہیں۔