پاکستان کی کامیاب ثالثی کے بعد مودی مذاق کا موضوع

   

حیدرآباد۔8۔اپریل (سیاست نیوز) جنگ بندی میں پاکستان کی کامیاب ثالثی نے ہندستانی وزیر اعظم کو سوشل میڈیا پر مذاق کا موضوع بنا دیا ہے اور دنیا کے سرکردہ خبررساں اداروں اور ایجنسیوں کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کو یکا و تنہا قرار دیا جانے لگا ہے۔ ہندستان کی ناکام خارجہ پالیسی کو ملک میں موجود امور خارجہ کا فہم رکھنے والوں کی جانب سے نشانہ بناتے ہوئے یہ کہا جا رہاہے کہ ہندستان کو جو کردار ادا کرنا چاہئے تھا وہ کردار پڑوسی ملک پاکستان نے ادا کرتے ہوئے 40 دن سے جاری جنگ کو 2ہفتہ کے لئے رکوانے میں کامیابی حاصل کی ہے حالانکہ ہندستان کے تمام فریقین سے راست ‘ دیرینہ اور قریبی روابط رہے ہیں اور اگر حکومت ہند اپنی خارجہ پالیسی کو مؤثر بنائے رکھتی تو ایسی صورت میں دنیا بھر میں آج پاکستان کے بجائے ہندستان کی سراہنا ہوتی اور ہندستانی شہریوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ۔ سوشل میڈیا پر کئے جانے والے تبصروں میں کہا جارہا ہے کہ ہندستان کے ایران سے دیرینہ تہذیبی و ثقافتی تعلق کے علاوہ تجارتی و سفارتی تعلقات کے سبب حکومت ہند ایران سے رابطہ استوار کرسکتی تھی اور اسرائیل سے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قربت کی بنیاد پر وہ اسرائیل سے بھی بات چیت کا آغاز کرواسکتے تھے اسی طرح وزیر اعظم نریندر مودی صدرامریکہ ڈونالڈ ٹرمپ سے اپنی گہری دوستی کے جوحوالہ دیتے رہتے ہیں اس دوستی کی بنیاد پر امریکہ سے بھی مذاکرات کا آغاز کرسکتے تھے ۔ان تینوں اہم فریقین ہی نہیں بلکہ ہندستان کے تمام خلیجی ممالک کے ساتھ بہترین سفارتی تعلقات کی بنیاد پر وہ تمام خلیجی ممالک کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرتے ہوئے قیام امن کو یقینی بنانے میں اپناکلیدی کردار ادا کرسکتا تھا لیکن موجودہ حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی کے نتیجہ میں ملک کی عالمی سطح پر رسوائی ہوئی ہے اور ہندستان کے کٹر حریف پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی ہونے لگی ہے جبکہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف دنیابھر میں نریندرمودی سے زیادہ مقبول نہیں ہیں۔I/H3
اور نہ ہی ان کے اسرائیل کے ساتھ کوئی راست روابط ہیں بلکہ امریکہ کی نظر میں پاکستان کی جو حالت ہے وہ ساری دنیا جانتی ہے لیکن اس کے باوجود امریکی صدر کو ’جنگ بندی‘ میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان سے اظہار تشکر کرنا پڑاجس کے نتیجہ میں آج دنیا بھر میں شہباز شریف اور پاکستان کو نئی شناخت حاصل ہوئی ہے جبکہ پاکستان کی سرحدوں میں دہشت گردوں کی تربیت اور ان کے ٹھکانوں کے سبب پاکستان ہمیشہ ہی الزامات کا سامنا کرتا رہا ہے۔