پاکستان کے جوابی حملے کے بعد ایران کی ایئر ڈیفنس سسٹم کی مشقیں

   

Ferty9 Clinic

تہران : سیستان بلوچستان میں اہداف پر پاکستانی میزائل اور ڈورنز حملوں کے بعد ایران نے اپنے فضائی دفاعی نظام میں نئے ہتھیار کی مشق کی ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ اس دفاعی مشق کا مقصد خطہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر جنوب مغرب سے جنوب مشرق کے ساحل تک پھیلے ہوئے علاقہ میں دشمن کے حملے روکنا تھا جس میں اس مقصد کے لیے تیار کردہ خصوصی ڈرونز استعمال کیے گئے۔ جمعرات کو شروع ہونے والی دو روزہ مشقیں جنوب مغربی صوبہ خوزستان کے آبادان سے لے کر جنوب مشرقی صوبے سیستان اور بلوچستان کے چاہ بہار تک کے علاقہ کا احاطہ کرتی ہیں جن کی سرحدیں پاکستان اور افغانستان سے ملتی ہے۔ پریس ٹی وی نے کہا کہ مشقوں میں فوج کی فضائیہ اور بحریہ، ایرو اسپیس فورس اور اسلامی انقلابی گارڈز کور کی بحریہ نے حصہ لیا۔ ایران نے منگل کو، بقول اس کے پاکستانی سرحد کے اندر ایک سنی عسکری گروپ جیش العدل کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا جس کے دو روز بعد جمعرات کو پاکستان نے بھی ایران کے اندر بقول اس کے علیحدگی پسند عسکری گروپ پر فضائی حملہ کیا۔ ’ادلے کا بدلہ‘ کی بنیاد پر کیے یہ حملے حالیہ برسوں میں سرحد پار مداخلت کی سب سے بڑی کارروائی تھی جس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے پھیلتے ہوئے دائرے میں مزید اضافے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

گوٹیرس کا ایران، پاکستان تنازعہ پر اظہارِ تشویش
نیویارک : اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان حالیہ تنازعہ پر گہری تشویش ہے۔ پاک ایران کشیدگی پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ کشیدگی میں مزید اضافہ نہ ہو۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اچھے پڑوسی تعلقات کے اصولوں کے مطابق مسائل حل کریں۔ انتونیو گوٹیرس کا مزید کہنا تھا کہ سلامتی کے تمام خدشات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔