پاکستان کے ضلع باجوڑ میں خودکش دھماکہ، 44 افراد جاں بحق

,

   

زائد از100 زخمی،17 کی حالت نازک، جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے مذمت ، تحقیقات کا مطالبہ

خیبر پختونخوا ہ (پاکستان): پاکستان خیبرپختونخواہ کے ضلع باجوڑ میں جمعیتہ علمائے اسلام (ف) کے ورکرز کنونشن میں آج خودکش دھماکہ ہوا، جس کے نتیجہ میں کم از کم 44 افراد جاں بحق اور 100 سے زیادہ زخمی ہوگئے جن میں 17 کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ باجوڑ کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسر سعد خان نے بتایا کہ دھماکہ میں جے یو آئی تحصیل خار کے امیر مولانا ضیااللہ جان بھی جاں بحق ہو گئے۔ زخمیوں کو قریبی ہاسپٹل کو علاج کیلئے منتقل کیا گیا ۔جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے باجوڑ میں جے یو آئی کے ورکر کنونشن کے دوران دھماکہ پر شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے افسوسناک واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے شہدا کے بلند درجات اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کرتے ہوئے کارکنوں کو تلقین کی ہے کہ وہ ہاسپٹل پہنچ کر خون کے عطیات فراہم کریں۔جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ورکرز کی بڑی تعداد کنونشن میں موجود تھی جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔دھماکہ کی آواز علاقے میں دور دور تک سنی گئی لیکن ابھی تک دھماکہ کی نوعیت کے بارے میں کوئی چیز واضح نہیں ہو سکی کہ یہ خودکش تھا یا دھماکہ خیز مواد کسی چیز میں نصب کیا گیا تھا۔جمعیت علمائے اسلام(ف) کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات فاٹا خالد جان داوڑ نے میڈیا کو بتایا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے زخمیوں کیلئے فوری ہیلی کاپٹر کا بندوبست کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور ملک بھر کے کارکنان سے پرامن رہنے کی اپیل کی گئی۔ اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما حافظ حمداللہ نے دھماکہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کنونشن میں مجھے بھی جانا تھا لیکن میں ذاتی مصروفیت کی وجہ سے وہاں نہیں جا سکا۔حافظ حمداللہ نے کہا کہ میں حملہ کرنے والوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اگر وہ اسے جہاد کہتے ہیں تو یہ جہاد نہیں ہے، یہ فساد اور کھلم کھلا دہشت گردی ہے، یہ انسانیت پر حملہ ہے، پورے باجوڑ اور ریاست پر حملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ میں ریاست اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس دھماکہ کی تحقیقات ہونی چاہیے، یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ بار بار ہوتا رہا ہے، اس سے پہلے بھی باجوڑ میں مختلف سطح کے عہدیداران کو شہید کیا گیا جس پر ہم نے پارلیمنٹ میں بھی آواز اْٹھائی لیکن آج تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف تنظیم کے سربراہ فضل الرحمن سے بات چیت کے بعد کہا کہ خاطیوں کو سخت سزاء دی جائے گی۔ دھماکہ کی دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے مذمت کی گئی ہے جس میں 44 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ 100 سے زائد زخمی ہیں۔ مہلوکین کی تعداد میں اضافہ کا بھی اندیشہ ہے۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے دھماکہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملے کا مقصد ملک میں افراتفری کی صورتحال پیدا کرنا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تمام سیاسی قائدین اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔سراج الحق نے بم دھماکہ کی فوری اور مکمل تحقیقات کروا کر مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ بھی کیا۔