پاکستان کے کرم میں مسلکی تشدد، 33 ہلاک

   

اسلام آباد : پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں فرقہ وارانہ تشدد کے نتیجے میں 30 سے زائد افراد ہلاک جبکہ تقریبا دو درجن زخمی ہو گئے ہیں۔ فریقین خود کار اور جدید اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔ ضلع کرم کے ایک مقامی پولیس اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ لوئر کرم میں مسلکی لڑائی کے نتیجے میں اب تک کم از کم 33 افراد ہلاک جبکہ 25 زخمی ہو گئے ہیں۔ مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ لوئر کرم کے کم ازکم تین مقامات پر شیعہ اور سنی مسلح گروپوں کے مابین تصادم جاری ہے۔ اس لڑائی میں بھاری اسلحہ استعمال کیے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ ضلع کرم میں یہ نئی کشیدگی ایک ایسے وقت میں شروع ہوئی جب جمعرات کے دن وہاں ایک مسافر قافلے پر حملہ کیا گیا تھا، جس میں کم از کم 42 افراد ہلاک ہوئے۔ ان کا تعلق پاڑہ چنار اور اہل تشیع کمیونٹی سے تھا۔ کرم پاکستان کا ایسا قبائلی ضلع ہے، جہاں شیعہ آبادی اکثریت میں ہے۔