پاکستان کے کون کون سے وزرائے اعظم اپنی مدت پوری نہیں کرپائے!

   

اسلام آباد : پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں کسی بھی وزیراعظم نے اپنا دور حکومت مکمل نہیں کیا ہے۔ ایک ایسا رجحان جو عمران خان کی برطرفی کے ساتھ بڑھا۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 1947 سے اب تک پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں 29 وزرائے اعظم گزرے چکے ہیں۔18 موقعوں پر کرپشن کے الزامات، براہ راست فوجی بغاوت اور جبری طور پر استعفیٰ لینے سمیت ان کو مختلف بہانوں سے اپنے عہدوں سے ہٹایا گیا۔ اس میں ایک وزیراعظم کا قتل بھی ہوا۔نئے انتخابات تک عبوری وزیراعظم محدود وقت کے لیے اس عہدے پر فائز رہے۔پاکستان میں وزیراعظم کا مختصر ترین دور دو ہفتے اور سب سے طویل دور چار سال اور دو ماہ کا رہا۔ لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے، انہوں نے 1947 میں اقتدار سنبھالا۔ 16 اکتوبر 1951 کو ایک سیاسی جلسے میں ان کو قتل کیا گیا۔میاں محمد نواز شریف 1990، 1997 اور 2013 میں یعنی تین مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئے خواجہ ناظم الدین نے 17 اکتوبر 1951 کو وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا۔ گورنر جنرل نے ان کو 17 اپریل 1953 کو برطرف کیا تھا۔ محمد علی بوگرہ 17 اپریل 1953 کو وزیراعظم بنے۔ انہوں نے 11 اگست 1955 کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔ان کی حکومت دو سال اور تین ماہ رہی۔ چودھری محمد علی نے اگست 1955 میں وزیراعظم کے عہدے کا چارج سنبھالا۔ حکمراں جماعت کے اندرونی اختلافات 12 ستمبر 1956 کو ان کی برطرفی کا باعث بنے۔وہ ایک سال اور ایک ماہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے۔ حسین شہید سہروردی 12 ستمبر 1956 کو وزیراعظم بنے۔ دیگر ریاستی اداروں کے ساتھ اختلافات کے باعث ان کو 18 اکتوبر 1957 کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا۔ان کی حکومت ایک سال اور ایک ماہ رہی۔ اکتوبر 1957 میں ابراہیم اسماعیل چندریگر کو وزیراعظم کا عہدہ ملا۔ ابراہیم اسماعیل چندریگر تحریک عدم اعتماد کا شکار ہوئے۔ انہوں نے 16 دسمبر 1957 کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا۔وہ دو ماہ سے بھی کم پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ذوالفقار علی بھٹو نے 14 اگست 1973 کو اقتدار سنبھالا تھا۔ملک فیروز خان نون نے 16 دسمبر 1957 کو وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا۔ سات اکتوبر 1958 میں مارشل لا کے نفاذ کے بعد ان کو برطرف کیا گیا۔ان کا دور حکومت دس ماہ سے کم تھا۔ نورالامین 7دسمبر 1971 کو وزیراعظم بنے۔ وہ دو ہفتوں سے کم پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ پاکستان سے بنگلہ دیش کی علیحدگی کے فوراً بعد انہوں نے 20 دسمبر 1971 کو اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 14 اگست 1973 کو اقتدار سنبھالا۔ 5جولائی 1977 کو ایک فوجی بغاوت کے ذریعے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ بعدازاں ان کو جیل بھیجا گیا اور پھانسی دی گئی۔ان کے حکومت کا دور تین سال اور 11 ماہ پر مشتمل تھا۔ محمد خان جونیجو مارچ 1985 میں وزیراعظم بنے۔ انہیں 29 مئی 1988 کو فوجی سربراہ ضیاالحق نے برطرف کیا جو اس وقت صدر بھی تھے۔وہ تین سال اور دو ماہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے۔11۔ مقتول وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون رہنما بے نظیر بھٹو نے وزیراعظم کا عہدہ 2دسمبر 1988 کو سنبھالا۔ان کی حکومت کو صدر نے کرپشن کے الزام میں 6اگست 1990 میں برطرف کیا تھا۔ان کی حکومت ایک سال اور 8ماہ رہی۔میر ظفراللہ خان جمالی نومبر 2002 میں فوجی حکمران پرویز مشرف کے دور میں وزیراعظم منتخب ہوئے۔