پاکستان 200 تا 300 دہشت گردوں کو کشمیر میں گھسانے کوشاں

,

   

ایل او سی پر دہشت گردوں کی بڑی تعداد موقع کا انتظار کررہی ہے ، ڈی جی پی دلباغ سنگھ

٭ دہشت گردوں کو تلاش کرنے کیلئے بڑے ملٹری آپریشن کی تیاری
٭ ایل او سی کے قریب فوج کی بھاری جمعیت تعینات

جموں ۔ /6 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے آج کہا کہ پاکستان کی جانب سے 200 تا 300 دہشت گردوں کو کشمیر میں گھسانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ریاست جموں کشمیر میں دہشت گردوں کو سرگرم کرنے کی سازش کو روبہ عمل لایا جارہا ہے ۔ پاکستان نے سرحد پر فائرنگ میں شدت پیدا کردی ہے ۔ ایک طرف ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ کرکے ہندوستانی فوج کی توجہ ہٹائی جارہی ہے ۔ دوسری طرف ایل او سی کے اس پار دہشت گردوں کی بڑی تعداد کشمیر میں داخل ہونے کے لئے موقع کا انتظار کررہی ہے ۔ امکان ہے کہ سرما کے آغاز سے قبل ہی یہ لوگ وادی میں داخل ہوں گے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردوں کی بڑی تعداد سرحد کے اس پار سے ریاست میں گھسنے میں کامیاب ہوچکی ہے جبکہ ہندوستانی فوج نے دراندازی کا خاتمہ کرنے کے لئے مختلف طریقہ سے مقابلہ کرتے ہوئے انہیں ناکام بنایا ہے ۔ ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے مزید کہا کہ 200 تا 300 کے درمیان دہشت گرد سرگرم ہوئے ہیں ۔ انہوں نے پونچھ کی سرحد کا دورہ کرتے ہوئے وہاں سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ دراندازی کرنے کی کوششوں میں مصروف دہشت گردوں کی تلاش کے لئیایک بڑے ملٹری آپریشن کوگزشتہ 10 دنوں سے کشمیرکے مانگبل کے جنگلات میں سرگرم کر دیا جارہا ہے۔ یہ وسطی کشمیرکا علاقہ ہے۔ یہاں پردودہشت گردوں کے مارے جانے کے بعد پولیس کو شک تھا کہ یا تویہاں پربڑی تعداد میں دہشت گرد موجود ہیں یا دراندازی کی کوشش کررہے ہیں۔ اس پہاڑی علاقے میں ہندوستانی پیرا ٹوپرس کوہیلی کاپٹرکے ذریعہ اتارا گیا ہے کیونکہ اس علاقے تک کوئی بھی روڈ نہیں جاتی ہے۔ ایسا اس لئے بھی کیا گیا کیونکہ پاس ہی میں موجود ایک آرمی یونٹ نے یہاں پرایک دہشت گردانہ گروہ کے دیکھے جانے کی بات کہی تھی۔ایک بڑے دہشت گردانہ گروہ کے یہاں پرہونے کے خطرے کودیکھتے ہوئے ہندوستان کے پیرا ٹوپرس اس علاقے میں ہرطرف پھیل گئے ہیں۔ فوج کوخوف ہیکہ یہ دہشت گرد باندی پورہ ضلع کے دوردرازکے علاقے گریزسے جموں وکشمیرمیں داخل ہوگئے ہیں اوروہ اب جنوبی کشمیرکے ترال ضلع کی طرف جانا چاہتے ہیں۔ دراصل ہندوستان میں گھسنے کیلئے یہ دہشت گردوں کا پرانا راستہ رہا ہے۔گاندربل کے ایس ایس پی خلیل پوسوال نے نیوز18 کوبتایا کہ 27 ستمبرکورات 9 بجے انہیں دیکھے جانے کے بعد دو دہشت گردوں کومارا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ اس علاقے میں 2014 کے بعد پہلا انکاؤنٹرتھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک دہشت گرد کواسی رات مارا گیا اور دوسرے کوتیسرے دن مارگرایا گیا۔ مرکزی حکومت نے جب سے جموں وکشمیرکے خصوصی ریاست کے درجے کوختم کیا ہے، تب سے وہاں پرلانچ کیا گیا، یہ سب سے بڑا آپریشن ہے۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے جموں وکشمیرکا خصوصی ریاست کا درجہ ختم کرکے اسے مرکزکے زیرانتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔