پبلک سرویس کمیشن میں مسلم رکن کے عدم تقرر پر مسلمانوں میں بے چینی

   

مسلم تحفظات پر عمل آوری میں دشواری ہوگی، محمد علی شبیر کا بیان
حیدرآباد: تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کی تشکیل کے موقع پر حکومت نے مسلم رکن کے تقرر کو نظر انداز کردیا ہے جس کے نتیجہ میں مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ سابق وزیر اور کانگریس کے قائد محمد علی شبیر نے پبلک سرویس کمیشن میں مسلم نمائندہ کی عدم شمولیت پر سخت تنقیدکی ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں مسلمانوں کی آبادی 14 تا 15 فیصد ہیں اور 90 فیصد سے زائد مسلم نوجوان بیروزگار ہیں۔ حکومت کی جانب سے سرکاری اداروں میں تقررات کے سلسلہ میں کمیشن میں مسلم رکن کی موجودگی ضروری ہے ۔ 80 فیصد سے زائد مسلمان بی سی ای زمرہ کے تحت آتے ہیں جنہیں سرکاری تقررات میں 4 فیصد کوٹہ فراہم کرنا لازمی ہے۔ پبلک سرویس کمیشن نے تقررات کے موقع پر 4 فیصد مسلم کوٹہ پر عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے مسلم رکن کی موجودگی ناگزیر ہے۔ کانگریس حکومت نے 2004 ء میں مسلم تحفظات کا آغاز کیا تھا اور سرکاری محکمہ جات کے علاوہ تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کو تحفظات سے فائدہ پہنچا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے مسلمانوں کو اقتدار کے اندرون چار ماہ 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا تھا لیکن 7 برس گزرنے کے باوجود یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ خود کو سیکولر قائد ہونے کا دعویٰ کرنے والے کے سی آر اقلیتی بہبود کے معاملہ میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس حکومت آر ایس ایس اور بی جے پی کے خفیہ ایجنڈہ پر عمل پیرا ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت کو تلنگانہ کے مسلمانوں نے ایک بھی ایسا قابل شخص نہیں ملا جسے کمیشن کے رکن کے طور پر تقرر کیاجاسکے۔