پبلک سیکٹر کے 4 بینکوں میں سرکاری حصہ داری بیچنے مرکز کی تیاری

   

تباہ حال قومی معیشت کو پٹری پر لانے حکومت سرکاری کمپنیوں کی نجکاری کر کے فنڈ جٹانے کوشاں
نئی دہلی ۔معیشت کا اتنا برا حال ہے کہ مرکزی حکومت کو اپنے بجٹ اخراجات کو پورا کرنے کے لئے فنڈ جٹانا ضروری ہو گیا ہے۔ فنڈ جٹانے کے لئے حکومت چار پی ایس یو بینکوں میں اپنی حصہ داری بیچنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس قدم کے بعد ملک کے چار پی ایس یو بینک نجی ہاتھوں میں چلے جائیں گے۔واضح رہے حکومت کے پاس ان بینکوں میں ہولڈنگس کے ذریعہ میجورٹی یعنی اکثریتی اسٹیکس ہیں اور سرکار اپنی حصہ داری بیچ کر فنڈ جٹانے کے فراق میں ہے۔ کورونا وبا نے پوری دنیا کی معیشت کو تباہ کر دیا ہے اور ہندوستانی معیشت تو نوٹ بندی کے بعد سے ہی بری طرح متاثر تھی اوپر سے یہ وبا آ گئی جس نے معیشت کو تباہ کر دیا۔لاک ڈاؤ کی وجہ سے بند اقتصادی سرگرمیوں نیپورے معاشی نظام کو ہلا دیا ہے۔ایک ویب سائٹ پر شائع خبر کے مطابق حکومت بینکو ں کے ساتھ سرکاری کمپنیوں کی نجکاری کر کے فنڈ جٹانا چاہتی ہے اور اسی کے تحت وزیر اعظم دفتر نے افسران سے کم ازکم چار سرکاری بینکوں میں حصہ داری کم کرنے کے عمل کو تیز کرنے کے لئے کہا ہے۔ ان سے کہا گیا ہے کہ اس عمل کو اسی مالی سال میں پورا کیا جانا چاہئے۔افسران نے بتایا ہے کہ ان بینکوں میں پنجاب اینڈ سندھ بینک، بینک آف مہاراشٹر، یوکو بینک اور آئی ڈی بی آئی بینک شامل ہیں۔ذرائع کا ماننا ہے کہ پی ایس یو بینکوں کی حصہ داری بیچنا حکومت کیلئے ایک چیلنج تو ہے لیکن اس کے بعد ملک میں بینک سیکٹر کسی حد تک پرائویٹائز ہو جائے گا۔ ویب سائٹ کے مطابق حکومت سرکاری بینکوں کی تعداد گھٹاکر پانچ تک لانا چاہتی ہے جبکہ ابھی یہ تعداد ایک درجن سے زیادہ ہے۔