گریٹر حیدرآباد میں ذاتی گاڑیوں کے رجحان میں اضافہ
تین ماہ کے دوران 62,463 بائیکس ، 17,154 کاروں کی خریدی ، محکمہ ٹرانسپورٹ کو 293 کروڑ کی آمدنی
حیدرآباد :۔ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے گریٹر حیدرآباد میں عوام ذاتی گاڑیاں خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ جون ۔ جولائی اور اگست میں تین ماہ کے دوران جملہ 82,640 گاڑیاں فروخت ہوئی ہیں جن میں 62,463 بائیکس اور 17,154 کاریں شامل ہیں ۔ نئی گاڑیوں کی خریدی پر محکمہ ٹرانسپورٹ کو 293 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ کورونا بحران اور پھر لاک ڈاؤن کی وجہ سے گریٹر حیدرآباد میں پبلک ٹرانسپورٹ تھم سا گیا ہے ۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کے باوجود عوام کورونا کے خوف آٹوز ، کیابس وغیرہ میں سوار ہونے میں احتیاط کررہے ہیں اور ذاتی گاڑیوں کی خریدی پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں ۔ گریٹر حیدرآباد میں 30 لاکھ افراد کو ٹرانسپورٹ فراہم کرنے والی آر ٹی سی کی 3000 بسیں بس ڈپوز تک محدود ہیں ۔ 4 لاکھ مسافرین کو سہولتیں فراہم کرنے والی میٹرو ریل کی خدمات دو دن پہلے بحال ہوئی ہے ۔ جس میں سوار ہونے سے بھی عوام احتیاط کررہے ہیں ۔ 1.5 لاکھ افراد کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہونچانے میں اہم رول ادا کرنے والی ایم ایم ٹی ایس ٹرینیں بھی اسٹیشن تک محدود ہے ۔ جس کی وجہ سے لوگوں نے ذاتی گاڑیاں خریدنے کو زیادہ اہمیت دی ہے ۔ جون میں 22,364 بائیکس ، 5116 کاریں اور 808 دوسری گاڑیاں فروخت ہوئی جس سے محکمہ ٹرانسپورٹ کو 89.31 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ۔ جولائی میں 18,836 بائیکس 5655 کار اور 1074 دوسری گاڑیاں خریدی گئی جس سے محکمہ ٹرانسپورٹ کو 95.67 کروڑ کی آمدنی ہوئی ماہ اگست میں 21,263 بائیکس ، 6383 کاریں ، 1141 دوسری گاڑیاں خریدی گئی جس سے محکمہ ٹرانسپورٹ کو 108.03 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ۔ گذشتہ سال انہیں تین ماہ 25 ہزار کاریں 55 ہزار بائیکس فروخت ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے ۔ گذشتہ سال کے بہ نسبت جون سے اگست تک بائیکس کی خریدی میں اضافہ ہوا جب کہ کاروں کے فروختگی کی تعداد گھٹی ہے ۔ آٹو موبائل شعبہ کے ذرائع نے بتایا کہ مالیاتی مسائل کے باعث ان تین ماہ کے دوران لگثرری کاروں کی خریدی میں بڑی کمی آئی ہے ۔ 6 تا 8 لاکھ روپئے مالیاتی قدر کی کاریں اور 80 ہزار سے کم بائیکس کی خریدی کے ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا ہے ۔۔