چینی مانجہ کو استعمال نہ کرنے کی نوجوانوں سے اپیل، خلاف ورزی پر حکومت سخت کارروائی کریں: ہریش راؤ
حیدرآباد ۔15 ۔ جنوری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق ریاستی وزیر ہریش راؤ نے پتنگ کی طرح اونچی اڑان اڑنے کیلئے خصوصی منصوبہ بندی تیار کرنے کا نوجوانوں کو مشورہ دیا۔ آج سدی پیٹ کے 36 ویں وارڈ میں انعقاد کردہ سنکرانتی جشن میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے ہریش راؤ نے شرکت کی اور ریاست کے عوام کو سنکرانتی کی مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ جس طرح پتنگ آسمانوں میں اڑان بھرتی ہے، اسی طرح نوجوانوں کو بھی اپنی زندگیوں میں اونچی اڑان اڑنے کیلئے خصوصی منصوبہ بندی تیار کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ یہ دور مسابقت کا دور ہے۔ جدید ٹکنالوجی میں ساری دنیا کو ایک کٹورے میں تبدیل کردیا ہے۔ وہی لوگ کامیابی حاصل کرتے ہیں جو خصوصی حکمت عملی کے ذریعہ منزل کو طئے کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ ہریش راؤ نے کہا کہ تہواروں کے موقع پر ہم سب کو ذمہ دارانہ رول ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کی جانب سے چینی مانجہ پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر سختی سے عمل آوری کریں اور ایسا مانجہ استعمال نہ کریں جس سے لوگوں کی زندگی خطرہ میں پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کہیں بھی چینی مانجہ فروخت ہورہا ہے تو اس کی فوری پولیس کو اطلاع دی جائیں۔ حالیہ دنوں میں چینی مانجہ کی زد میں آکر فوت ہونے والے اور زخمی ہونے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔ ہریش راؤ نے چینی مانجہ فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نئے سال میں آنے والا یہ پہلا تلسنکرانت ہے۔ ہر تہوار کے پیچھے بھروسہ کے ساتھ سائنس بھی جڑی ہوئی ہے۔ سردی کے موسم میں گھروں میں رہنے سے جسم کو سورج کی روشنی نہیں ملتی اس لئے سنکرانتی کے موقع پر بڑے ، بچے اور سب گھروں سے باہر نکل کر شام تک پتنگیں اڑاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے جسم کو دھوپ لگتی ہے جس سے انہیں وٹامن ڈی ملتاہے۔2