پرائیوٹ و کارپوریٹ دواخانوں میں مریضوں کی زندگیوں سے کھلواڑ

   

کئی دواخانے غیر قانونی طور پر تعمیر کردہ عمارتوں میں کام کررہے ہیں ۔ فائر سیفٹی کا انتظام نہیں
حیدرآباد ۔ 19 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز) : پرائیوٹ و کارپوریٹ دواخانے مریضوں کو نئی زندگی عطا کرنے کے بجائے ان کی زندگیوں کا خاتمہ کررہے ہیں اور زندگی میں سب کچھ حصول دولت ہی سمجھتے ہوئے غیر قانونی حرکتوں میں ملوث ہورہے ہیں اور ایک معنی میں یہ دواخانے نہیں بلکہ دغاخانے بن گئے ہیں جو بنا پارکنگ کی سہولت کے غیر قانونی عمارتیں اس انداز میں تعمیر کررہے ہیں کہ اگر وہاں آتش زدگی کے واقعات پیش آتے ہیں تو ان دغا خانوں میں موجود مریض فوری طور پر باہر بھی نہیں نکل سکتے ہیں ۔ یہ حالت زار نہ صرف حیدرآباد کی ہے بلکہ ساری ریاست میںہے ، عظیم تر حیدرآباد میں ہر گلی میں ایک نرسنگ ہوم ، ہر سڑک پر ایک ملٹی اسپیشالیٹی اور سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل موجود ہے اور ان میں سے اکثر دواخانے غیر قانونی ہونے کا ادعا سامنے آرہا ہے ۔ ماضی قریب میں شائین ہاسپٹل یل بی نگر میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا اور متعلقہ مجاز افسران نے اس دواخانے کا بغور جائزہ لینے کے بعد اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ وہاں آتشزدگی جیسا حادثہ پیش آنے کے بعد مریضوں کو جان بچانے کے لیے فوری طور پر باہر آنے کا راستہ بھی نہیں ہے اس واقعہ کو حکومت نے سنجیدگی کے ساتھ لیتے ہوئے شہر کے تمام دواخانوں کا جائزہ لینے کے احکامات جاری کئے ہیں ان احکامات پر بلدیہ کے شعبہ انفورسمنٹ نے عمل آوری کرتے ہوئے کچھ نہ کچھ خامیاں رکھنے والے 1823 دواخانوں کو نوٹسیں جاری کیا ہے ۔ رہائشی عمارتوں میں غیر قانونی چلائے جانے والے دواخانے ، پارکنگ کے مقامات پر قبضہ کر کے چلائے جانے والے دواخانے ، بناء بلدیہ کی منظوری کے زائد منزلوں ( فلورس ) کی تعمیرات جن عمارتوں کی بلدیہ سے منظوری نہیں ہے ان عمارتوں میں دواخانوں کا چلانا ، ٹریڈ لائسنس کی عدم منظوری ، ایمرجنسی سیڑھیوں کی عدم موجودگی ، آتش فرو آلات کی غیر موجودگی ، جائیداد ٹیکس کی عدم ادائیگی جیسے مختلف خامیوں کی عہدیداران نے نشاندہی کی ہے اور عہدیداران انہیں نوٹسیں جاری کئے ہیں ۔بلدیہ زونس کی سطح پر یل بی نگر 445 ، چارمینار 222 ، خیریت آباد 361 ، سکندرآباد 308 ، شیر لنگم پلی 307 ، کوکٹ پلی 180 ، اس طرح جملہ 1823 دواخانوں نے نوٹسیں حاصل کئے ہیں ۔ بلدیہ کے شعبہ انفورسمنٹ کے ڈائرکٹر شواجیت کمپائی نے بتایا کہ جن دواخانوں میں مریض شریک ہیں انہیں فوری طور پر بند نہیں کیا جاسکتا ۔ لہذا مریضوں کو تکالیف سے بچانے کے لیے سب سے پہلے ان دواخانوں کے مالکین کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور جو دواخانے آوٹ پیشنٹ کی حیثیت سے چلائے جارہے ہیں انہیں بند کردیا جائے گا اور جن دواخانوں کی عمارتیں پر خطر ہیں انہیں منہدم کیا جائے گا یا انہیں برقی اور پانی کی سپلائی روک دی جائے گی ۔ تاہم دواخانوں کو نوٹسیں جاری کی جارہی ہیں اور بعض دواخانے فوری جواب دے رہے ہیں تو بعض دواخانے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور جس دواخانوں کی جانب سے جواب نہیں دیا جائے گا ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی ۔۔