پراجکٹ کی منظوری اور فنڈز کی اجرائی میں تلنگانہ کے ساتھ مرکز کا سوتیلا سلوک

   

حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کے لیے 10 سال قبل 1458 کروڑ روپئے مختص تاحال صرف 1200 کروڑ کی اجرائی
حیدرآباد :۔ تلنگانہ کے ساتھ فنڈز کی اجرائی میں بی جے پی کے زیر قیادت مرکزی حکومت سوتیلا سلوک کررہی ہے ۔ ایسا لگتا ہے ریاست تلنگانہ ملک کا حصہ نہیں ہے ۔ وہیں بی جے پی کے زیر قیادت ریاستوں اور اس کی حلیف جماعتوں کی ریاستوں میں فنڈز پانی کی طرح بہایا جارہا ہے ۔ ملک کے دوسری ریاستوں کو جو فنڈز جاری کئے جارہے ہیں اس کے 10 فیصد حصہ تلنگانہ کو مختص کیا جارہا ہے ۔ اس کی اجرائی میں بھی ٹال مٹول کی پالیسی اپنائی جارہی ہے ۔ حیدرآباد میں تعمیر کئے جانے والے میٹرو ریل پراجکٹ کی تعمیرات کے لیے جو فنڈز مختص کئے گئے اس کی آج تک مکمل اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے ۔ دوسرے مرحلے کے پراجکٹ کے لیے کوئی فنڈز مختص نہیں کئے گئے ۔ مرکزی حکومت ریاست تلنگانہ کے ساتھ سوتیلا سلوک کررہی ہے ۔ اس کا زندہ ثبوت حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ ہے ۔ ریاست کو کوئی نئے پراجکٹس منظور نہیں کئے گئے ۔ جو فنڈز مختص کئے گئے اس کی اجرائی میں بھی تاخیر کی جارہی ہے ۔ حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ دنیا کا سب سے بڑا گورنمنٹ پرائیوٹ پارٹنر شپ ( پی پی پی ) پراجکٹ ہے اس پراجکٹ کے لیے مرکزی حکومت نے سال 2012 میں 1458 کروڑ روپئے جاری کرنے کا فیصلہ کیا لیکن ابھی تک 1200 کروڑ روپئے مختص کئے اور 258 کروڑ روپئے کو زیر التواء رکھا گیا ہے لیکن ملک کے دوسرے میٹرو ریلوے پراجکٹس کو بڑے پیمانے پر فنڈز جاری کئے جارہے ہیں ۔ جس کی مثال ملک کی راجدھانی دہلی ہے ۔ جہاں میٹرو ریل پراجکٹ کے لیے 25863.81 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ۔ بنگلور میٹرو پراجکٹ مالیاتی اداروں سے 7694.57 کروڑ روپئے کی اجرائی عمل میں لائی گئی ۔ چینائی ، احمد آباد ، لکھنو میٹرو ریل پراجکٹس کے لیے ہزاروں کروڑ جاری کئے گئے ۔ ( پی پی پی ) نظام کے تحت تعمیر ہونے والے حیدرآباد میٹرو پراجکٹ میں تعمیری ادارہ ایل اینڈ ٹی نے 14 ہزار کروڑ روپئے خرچ کیا ہے ۔ اس کا 10 فیصد حصہ جاری کرنے والے 1458 کروڑ میں صرف 1200 کروڑ روپئے ہی مختص کئے گئے ہیں ۔ زیر التواء فنڈز کی اجرائی ریاستی حکومت گذشتہ تین سال سے نمائندگیاں کررہی ہے ۔ مگر مرکزی حکومت انہیں نظر انداز کررہی ہے ۔۔