پرانا شہر کیا ہندوستان کا حصہ نہیں؟بی جے پی صدر سے محمد علی شبیر کا سوال

   

حیدرآباد : سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے بی جے پی کے ریاستی صدر بی سنجے کے پرانے شہر میں سرجیکل اسٹرائیک سے متعلق بیان کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے سنجے کو جاننا چاہئے کہ سرجیکل اسٹرائیک اندرون ملک نہیں بلکہ دشمن کی سرزمین پر کی جاتی ہے ۔ کیا سنجے کے نزدیک حیدرآباد کا پرانا شہر ہندوستان کا حصہ نہیں ہے؟ انہوں نے کہا کہ بی جے پی صدر کو اس قدر گھٹیا بیان کے ذریعہ بلدی انتخابات میں چند نشستوں پر کامیابی کی کوشش کیلئے شرمندگی محسوس کرنی چاہئے ۔ ایک ذمہ دار صدر اور پارلیمنٹ کے رکن کیلئے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی ایک مذہب کو نشانہ بناتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کریں۔ بی جے پی مذہب کی بنیاد پر سماج کو تقسیم کرنا چاہتی ہے اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اور حیدرآباد پولیس دونوں کسی کارروائی کے بغیر خاموش تماشائی ہیں۔ اشتعال انگیز بیانات کے خلاف پولیس کو کارروائی کرنی چاہئے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ روہنگیا کا مسئلہ مرکزی حکومت کے تحت آتا ہے ، لہذا حیدرآباد کے پرامن ماحول کو بگاڑنے کے بجائے سنجے کو چاہئے کہ وہ مرکز سے اس بارے میں سوال کرے جہاں بی جے پی برسر اقتدار ہے۔ حیدرآباد کے پرانے شہر کو دہشت گردوں کے مرکز سے تعبیر کرتے ہوئے بی جے پی صدر نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی اہلیت پر سوال اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائد قانون کا احترام کئے بغیر اور انتخابی ضابطہ اخلاق کی پرواہ کئے بغیر اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں۔