پرانا پل واقعہ کے بعد پولیس کا شرپسندوں کیلئے نرم رویہ ‘ گرفتاریوں سے گریز !

   

Ferty9 Clinic

سخت دفعات کے تحت مقدمات بھی درج نہیں ہوئے ۔ پولیس اسٹیشن میں ہی ملزمین کو مل سکتی ہے ضمانت
حیدرآباد 17 جنوری ( سیاست نیوز ) : شہر کے پرانا پل علاقہ میں پیش آئے فرقہ وارانہ واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی میں پولیس مبینہ طور پر جانبداری کے الزامات کا سامنا کررہی ہے ۔ پولیس کی موجودگی میں قبور اور نشان مبارک کی بے حرمتی اقلیتوں پر حملے ‘ ہجوم کی جانب سے توڑ پھوڑ ، گاڑیوں کو نظر آتش کرنا ، پولیس ملازمین پر پتھراؤ ، گاڑیوں کو نقصان پہونچانا اور پولیس گاڑیوں و آر ٹی سی بسوں پر حملہ ، راہ چلتے مسافرین پر ان کی شناخت دیکھ کر قاتلانہ حملے کئے گئے ۔ معاملات یہاں تک محدود نہیں رہے منگل ہاٹ اور کلثوم پورہ میں اقلیتوں کی دوکانات پر حملہ ، گاڑیوں کو نقصان پہونچایا گیا ۔ رحیم پورہ و جمعرات بازار میں بھی ایک مسجد کے میناروں کو نقصان پہونچایا گیا ، تا ہم اس بات کو دبا دیا گیا تاکہ شہر کے حالات کو قابو میں رکھا جاسکے ۔ پولیس کی موجودگی میں ہوئی ہنگامہ آرائی کی منہ بولتی تصاویر سے تقریباً ہر شہری واقف ہے ۔ لیکن پولیس یہاں تک خاموش نہیں رہی ۔ عملاً شرپسندوں کی نگرانی کرتی نظر آنے والی پولیس نے اپنی وردی کا بھی خیال نہیں کیا ۔ ان واقعات کے بعد چند مقدمات درج کئے گئے جن میں ایک شرابی کو گرفتار کرلیا جو کہ اصل فساد کی جڑ تھا ۔ لیکن اس کے بعد کارروائیاں و اقدامات پولیس پر مزید الزامات عائد کررہے ہیں۔ پولیس کی یہ کارروائی تشویش اور حیرت کا سبب بنی ہوئی ہے حالانکہ تین سرغنہ شرپسند افراد کو منگل ہاٹ پولیس نے گرفتار کرلیا جن کی شناخت مہیش کمار ، انیکت پوار اور دیپالہ منی کنٹھ کی حیثیت سے کی گئی جبکہ دیگر مقدمات میں تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی اور یہ گرفتاریاں منگل ہاٹ پولیس سے کی گئیں جب کہ کاماٹی پورہ پولیس سے تاحال کسی شرپسند کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق پولیس نے چار مقدمات درج کئے جن میں ایک مندر کو مبینہ طور پر نقصان پہونچانے کا تھا ۔ جس میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا جس کا اقلیتی طبقہ سے تعلق ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق دیگر مقدمات میں ملزمین کی نشاندہی کرلی گئی لیکن انہیں فی الحال گرفتار نہیں کیا گیا جس کی ایک خاص وجہ بتائی جارہی ہے لیکن یہاں پولیس کے اقدام اور کارروائی مزید تشویش اور حیرت کا سبب بتا رہی ہے ۔ جو مقدمات درج کئے گئے ان کی تفصیلات نہیں بتائی جارہی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی اور قوانین سے گریز کیا گیا ۔ جس طرح تشدد کے وقت پولیس کی خاموشی شرپسندوں کے لیے مددگار ثابت ہوئی ٹھیک اسی طرح قانونی کارروائیوں سے سختی سے گریز مدد کا ایک اور پہلو تصور کیا جارہا ہے جس سے شرپسندوں کے حوصلے بلند ہونگے اور پولیس کی یہ کارروائی مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام میں رکاوٹ ثابت ہوگی ۔ پولیس کے درج کردہ مقدمات میں ایک مقدمہ میں شکایت گذار خود ایک سب انسپکٹر ہے ۔ گاڑی جلانے ، ہجومی تشدد کا شکار نوجوان قاتلانہ حملہ میں زخمی شخص ایک شخص پر پٹرول کے ذریعہ حملہ کرنے کی کوشش کی گئی ۔ ان شکایتوں کے متعلق پولیس کے یہاں کوئی جواب ہے نہ جواز بلکہ ایسے دفعات درج کرنے کی اطلاعات ہیں جس کے ذریعہ شرپسندوں کو پولیس اسٹیشن میں ضمانت مل سکتی ہے ۔ ایسے واقعات میں اقلیتوں کے خلاف درج مقدمات و کارروائیاں اپنی درد ناک داستانیں پیش کرتی ہے اور برسوں گذرنے کے باوجود مقدمات میں پھنسے افراد اپنی کربناک حالت اور پولیس کی اذیتوں کو یاد کرکے تڑپ اٹھتے ہیں۔ حیدرآباد سٹی پولیس کو قیام امن کو یقینی بنانے اور پر سکون حالات کو برقرار رکھتے ہوئے خوشحال ریاست کے تصور کو یقین میں بدلنے عدل اور انصاف سے کام لینا ہوگا جو پولیس کی اب تک کی کارروائیوں سے ظاہر نہیں ہوتا ۔۔ ع