پرانی تاریخ کے انجکشن کے استعمال پر نئے اسکام کا اندیشہ

   

عادل آباد میں خریدے گئے انجکشنس پرانے نکلے، تحقیقات کیلئے عہدیداروں کو ہدایت
حیدرآباد۔ کورونا اور بلیک فنگس کیلئے درکار ادویات کی قیمتوں میں اضافہ اور بلیک مارکیٹنگ کی شکایات عام ہیں لیکن سرکاری دواخانوں میں پرانی تاریخ والی ادویات کی سربراہی نے نیا تنازعہ پیدا کردیا ہے۔ ریاست کے کئی سرکاری دواخانوں میں مریضوں کے رشتہ داروں نے پرانی تاریخ کے انجکشن اور ادویات استعمال کرنے کی شکایت کی ہے۔ اس طرح کا ایک تازہ معاملہ عادل آباد کے راجیو گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس میں منظر عام پر آیا جہاں جنوری 2021 تک کارگر انجکشن کا استعمال کیا گیا۔ یہ انجکشن فبروری 2019 میں تیار کردہ تھا اور اس پر ایکسپائری ڈیٹ جنوری 2021 درج تھی۔ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر بلرام نائیک نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ نے حکومت کی جانب سے ادویات کی عدم سربراہی کے سبب 5000 انجکشن خریدے تھے۔ ڈائرکٹر نے کہاکہ وہ اس بات سے واقف نہیں کہ یہ انجکشن کہاں سے سربراہ کئے گئے جن پر پرانی تاریخ درج ہے۔ مریض کے رشتہ داروں نے بستر کے قریب انجکشن دیکھ کر اس کی تاریخ کا جائزہ لیا تو وہ ایکسپائری ڈیٹ کا تھا۔ حکام نے اس معاملہ کی تحقیقات کی ہدایت دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کیرالا سے یہ انجکشن خریدے گئے تھے۔ حکام اس بات کی وضاحت سے قاصر ہیں کہ اب تک کتنے انجکشن مریضوں کو دیئے گئے جن کی مدت ختم ہوچکی تھی۔ کورونا وباء اور ادویات کی قلت کا فائدہ اٹھاکر پرانی تاریخ کے انجکشن سربراہ کردیئے گئے۔ ڈائرکٹر نے اعتراف کیا کہ بعض مریضوں میں پرانی تاریخ کے انجکشن دیئے جانے پر منفی اثرات دیکھے گئے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پرانی تاریخ والے انجکشن کی خریدی کے اسکام میں انسٹی ٹیوٹ کے ذمہ دار ملوث ہیں۔ اسی دوران کانگریس کے قائدین نے انسٹی ٹیوٹ کا دورہ کیا اور ضلع کلکٹر سے اس معاملہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔