میٹرو ریل کی توسیع کے منصوبہ کا کوئی اعلان نہیں ، مسلم غالب آبادی کو ترقی سے محروم رکھنے کی کوشش
حیدرآباد۔29۔مئی۔ (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کو پرانے شہر کی ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے یا پھر حکومت کی جانب سے مسلم غالب آبادی والے پرانے شہر کو نظرانداز کرتے ہوئے ترقی سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے!شہر حیدرآباد میں میٹروریل کی توسیع کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے اعلان اور ائیرپورٹ میٹرو لائن کے متعلق اعلان و سنگ بنیاد کے بعد اب عالمی ٹنڈر بھی طلب کرلئے گئے ہیں جبکہ ریاستی حکومت کی جانب سے شہر حیدرآبادکی موجودہ میٹرو ریل میں شامل پرانے شہر کی راہداری کے سلسلہ میں اب تک کوئی پیشرفت عمل میں نہیں لائی گئی بلکہ گذشتہ 2برسوں سے سالانہ بجٹ میں 500کروڑ کی تخصیص عمل میں لائی جا رہی ہے لیکن پرانے شہر میں میٹروریل کے کاموں کے آغاز کے سلسلہ میں اب تک کوئی منصوبہ کا اعلان نہیں کیا گیا جبکہ گذشتہ 5برسوں سے مجلسی ارکان اسمبلی بھی پرانے شہر کی میٹرو راہداری پر کام کے آغاز کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن ان کے اس مطالبہ کو بھی حکومت کی جانب سے مسلسل نظرانداز کیا جانے لگا ہے۔ پرانے شہر میں میٹروریل کے آغاز کی صورت میں پرانے شہر کے بیشتر مسلم علاقوں کی ترقی یقینی ہوگی کیونکہ پرانے شہر کی راہداری بیشتر مسلم علاقوں سے گذررہی ہے اور اس راہداری سے ان علاقوں کی اہمیت میں اضافہ ہونے کے علاوہ شہریوں کو کافی سہولت حاصل ہوگی۔ سال 2017میں ناگول تارائے درگم‘ مہاتما گاندھی بس اسٹیشن تاجوبلی بس اسٹیشن سکندرآباد اور میاں پور تا ایل بی نگر راہداری کے آغاز کے بعد سے کہا جار ہاہے کہ جلد ہی فلک نما تا مہاتما گاندھی بس اسٹیشن راہداری پر کاموں کا آغاز کیا جائے گا لیکن اب تک اس راہداری پر میٹرو ریل کے کاموں کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت یا منصوبہ بندی نہیں کی گئی بلکہ حیدرآباد میٹرو ریل کے عہدیداروں سے دریافت کرنے پر یہ کہا جا رہاہے کہ پرانے شہر میں میٹروریل راہداری پر کاموں کے آغاز کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی حکومت نے اس راہداری پر کام شروع کرنے کی کوئی ہدایت دی ہے۔ ریاستی حکومت نے رائے درگم میٹرواسٹیشن سے شمس آباد ائیر پورٹ تک میٹرو ریل کی توسیع کے منصوبہ کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی اندرون چند ہفتہ سنگ بنیاد تقریب منعقد کرنے کے علاوہ اس راہداری پر سروے کے کاموں کو مکمل کرلیا اور اس میٹرو لائن پر کاموں کے آغاز کے لئے ٹنڈر بھی طلب کرلئے گئے جبکہ 5برس گذرنے کے باوجود پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کاموں کے آغاز کے سلسلہ میں حصول جائیداد کے عمل کو بھی مکمل نہیں کیا گیا۔ عہدیدارو ںنے بتایا کہ ریاستی حکومت کو اس جانب متوجہ کرنے کی صورت میں ٹال مٹول کے انداز میں جواب دیا جا رہاہے اسی لئے عہدیداروں نے پرانے شہر کی راہداری پر کام کاج کے آغاز کے متعلق دریافت کرنا بھی بند کردیا ہے ۔ پرانے شہر میں ترقیاتی کاموں میںحائل رکاوٹوں کے سلسلہ میں دریافت کرنے پر عہدیداروں نے بتایا کہ ابتداء میں جو رکاوٹیں تھیں ان کو دور کرنے کے بعد ہی 5سال قبل پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کاموں کے آغاز کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن اب تک بھی اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہے ۔ پرانے شہر میں میٹروریل کے کاموں کے آغاز کی صورت میں نہ صرف ٹریفک کے مسائل حل ہوں گے بلکہ حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ‘ چارمینار اور بہادرپورہ کے علاقوں میں ترقی کی رفتار تیز ہوگی اور ان حلقہ جات اسمبلی کے تحت موجود علاقوں میں جائیدادوں کی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ ہونے کا امکان ہے ۔ رائے درگم سے شمس آباد میٹرو لائن پر کاموں کے آغاز کا جائزہ لیا جائے تو میٹرو گذرنے کے بیشتر علاقہ اب بھی غیر آباد ہیں لیکن اس راہداری پر سہولتوں کی فراہمی عمل میں لانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں جبکہ پرانے شہر کی راہداری پر میٹروریل خدمات کا آغاز کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں گنجان آبادی بلکہ لاکھوں افراد کو اس کا فائدہ حاصل ہوگا۔م