قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے ملازمین تنخواہ سے محروم
پرانے شہر کی ترقی کیلئے چیف منسٹر کی صدارت میں قائم کردہ ادارہ کے وجود کو ہی خطرہ لاحق
حیدرآباد۔ حکومت کی پرانے شہر سے لا تعلقی اور بے اعتنائی کی کئی مثالیں موجود ہیں اور اب حالت یہ ہوچکی ہے کہ پرانے شہرکی ترقی اور منصوبہ بندی کیلئے قائم ادارہ کے ملازمین کو بھی تنخواہوں سے محروم رکھا جانے لگا ہے اور ان کیلئے کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہے ۔ قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہوتی جا رہی ہے اور اس ادارہ میں کے عہدیدارو ںکی حالت اور ابتر ہونے لگی ہے ۔ ادارہ کی کارکردگی بری طرح متاثر ہے اور کوئی کام ادارہ کے ذریعہ ممکن نہیں ہوپا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ فنڈس کی قلت ہے۔ پرانے شہر میں اس ادارہ کے ذریعہ ترقیاتی کاموں کے آغاز اور ترقی کی منصوبہ کیلئے قائم ادارہ کے ملازمین 2 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں ۔ کہا جا رہاہے کہ قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کی فائل محکمہ فینانس میں زیر التواء ہے اور اس کی یکسوئی پر عدم توجہ سے ملازمین میں ناراضگی ہے۔ دونوں شہروں میں انجام دیئے جانے والے ترقیاتی کاموں کی تفصیلات سے عوام واقف ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ پرانے شہر میں کاموں کی تکمیل کیلئے کتنا وقت درکار ہوتا ہے اور نئے شہر میں کاموں کی رفتار کیا ہوتی ہے۔ اسی طرح اب پرانے شہر کی ترقی کیلئے مخصوص سرکاری ادارہ کے ملازمین کے ساتھ ‘ سرکاری ملازمین جیسا برتاؤ نہیں کیا جا رہاہے بلکہ یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ وہ سرکاری ملازمین کی طرح تنخواہ بھی وقت پر حاصل کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ اتھاریٹی میں 168 ملازمین ہیں جن میں 65 باقاعدہ ملازمین ہیں اور ان کی تنخواہیں جو 7کروڑ ادا شدنی ہیں اس کی فائل محکمہ فینانس میں زیر التوا ہے۔ملازمین نے بتایا کہ گذشتہ ماہ نومبر اور ڈسمبر کی تنخواہوں کی اجرائی نہ ہونے سے ملازمین کو معاشی دشواریوں کا سامنا ہے اور قلی اتھاریٹی کو سالانہ بجٹ میں تخصیص سے محروم کرنے سے یہ صورتحال پیدا ہورہی ہے اس کے علاوہ اتھاریٹی اپنے طور پر کسی طرح کے ترقیاتی کاموں کی منصوبہ بندی اور آغاز کے موقف میں نہیں ہے۔واضح رہے کہ قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے صدرنشین خود چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ہیں اور اس کی صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ ملازمین تنخواہ کیلئے محکمہ فینانس کے چکر کاٹنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔