چھ مہینوں سے بلس کی اجرائی نہیں ہوئی ، سارا کام کاج بند
حیدرآباد۔6اگسٹ(سیاست نیوز) مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں خدمات انجام دینے والے کنٹراکٹرس کی جانب سے جاری احتجاج اور کام بند کرنے کے فیصلہ کا اثر اب شہر حیدرآباد کے مرکزی چارمینار زون پر بھی ہونے لگا ہے اور کنٹراکٹرس نے واضح کردیا ہے کہ وہ اب ایمرجنسی خدمات کے علاوہ کوئی اور ترقیاتی کاموں کو جاری رکھنے کے موقف میں نہیں ہیں کیونکہ 6ماہ میں بلوں کی اجرائی کی صورت میں ہی وہ کام انجام دے سکتے ہیں لیکن انہیں 6ماہ کے اندر بلوں کی اجرائی تو دور بلوں کی منظوری عمل میں نہیں لائی جا رہی ہے جو کہ ان کے لئے انتہائی تکلیف دہ ثابت ہورہا ہے۔ کنٹراکٹرس کے وفد نے چارمینارزون کے عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے اپنے اس فیصلہ سے واقف کروایا اور کہا کہ انہیں تعمیری اشیاء فراہم کرنے والوں کے علاوہ ان کے کامو ںکے لئے سرمایہ کاری کرنے والوں نے بھی اب مزید کسی کام کیلئے اشیاء یا سرمایہ کی فراہمی سے انکار کرنا شروع کردیا ہے اور جی ایچ ایم سی کی جانب سے بجٹ کی عدم اجرائی ان کے لئے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ کنٹراکٹرس نے بتایا کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں ترقیاتی کاموں کو گتہ داروں نے روک دیا ہے لیکن چارمینار زون میں اب بھی اس با ت کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ایمرجنسی کاموں کو روکنے کے بجائے انہیں مسلسل انجام دیا جاتا رہے لیکن اگر جی ایچ ایم سی کی جانب سے بلوں کی اجرائی کے سلسلہ میں کی جانے والی کوتاہی کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو ایک دن ایمرجنسی میں کئے جانے والے کاموں کو بھی بند کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ بیشتر تمام کنٹراکٹرس کے بل باقی ہیں اور اب کنٹراکٹرس مزید رقومات کی سرمایہ کاری کے موقف میں نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی معاشی حالت بہتر ہے کہ وہ مزید کچھ وقت تک انتظار کر سکیں۔ کنٹراکٹرس کے وفد نے بتایا کہ دونوں شہروں میں کنٹراکٹرس کی جانب سے 26 جولائی سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور اس احتجاج کے دوران شہر میں کئی کاموں کو بند کیا جاچکا ہے لیکن اس کے باوجود چارمینار زون میں کچھ کاموں کو جاری رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی جو کہ اب ناکام ثابت ہونے لگی ہے۔ کنٹراکٹرس کی جانب سے اگر چارمینار زون میں کاموں کو بندکیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ملک پیٹ‘ سعید آباد‘ سنتوش نگر‘ بہادر پور‘ حافظ بابا نگر کے علاوہ دیگر علاقوں میں جاری تعمیری کاموں میں مزید تاخیر کا خدشہ ہے جو کہ پہلے سے ہی تعطل کا شکار بنی ہوئی ہیں۔ گتہ داروں نے بتایا کہ کئی ایسے کام ہیں جو کہ وقت مقررہ پر مکمل کئے جا چکے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ان کاموں کے بل زیر التواء ہیں ۔