پرانے شہر میں بیشتر راشن شاپس بند، سینکڑوں عوام کا گھنٹوں انتظار

   

Ferty9 Clinic

سماجی دوری نظرانداز، گوشت کی قیمت میں زبردست اضافہ، حکام تماشائی
حیدرآباد۔2 اپریل (سیاست نیوز) حکومت نے لاک ڈائون سے متاثرہ غریب خاندانوں کے لیے مفت چاول اور رقمی امداد کا اعلان کیا ہے۔ چیف منسٹر کے اعلان کو تقریباً ایک ہفتہ گزرگیا لیکن آج بھی سفید راشن کارڈ ہولڈرس کی اکثریت اناج اور رقم سے محروم ہے۔ محکمہ سیول سپلائز نے راشن شاپس پر آج سے چاول کی تقسیم کا اعلان کیا تھا۔ صبح 6 بجے سے عوام راشن دکانات کے روبرو قطاروں میں کھڑے ہوگئے تاکہ دکان کھلتے ہی اپنی باری جلد آسکے۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں میں راشن دکانات بند رہیں اور دوپہر تک انتظار کے بعد عوام کو مایوس لوٹنا پڑا۔ راشن شاپ اونر اور سیول سپلائز کے کسی عہدیدار نے پہنچ کر رہنمائی نہیں کی۔ بعض مقامات پر راشن شاپس کے ذریعہ فی کس 12 کیلو چاول تقسیم کیا گیا۔ چاول کے حصول کے لیے سینکڑوں کی تعداد میں غریب افراد سڑکوں پر نکل آئے اور سماجی دوری کی شرط بری طرح نظرانداز کردی گئی۔ ہجوم کی شکل میں لوگ ایک ہی مقام پر دیکھے گئے جبکہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ہجوم سے بچنا اور سماجی دوری برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ایسے سفید راشن کارڈ ہولڈرس جنہیں چاول نہیں ملا مقامی عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ متعلقہ راشن شاپس کو کھولنے کا انتظام کریں۔ محکمہ سیول سپلائز کے عہدیداروں کو اس سلسلہ میں توجہ دلائی جائے۔ پولیس بھی قطار میں فاصلہ برقرار رکھنے میں ناکام دکھائی دے رہی تھی۔ اسی دوران شہر میں ترکاری کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ گوشت کی قیمت میں زبردست اضافہ ہوگیا۔ صبح کے اوقات میں پولیس کی جانب سے بیف اور میٹ کے فروخت کی اجازت دی جارہی ہے لیکن دکاندار من مانی زائد قیمت حاصل کررہے ہیں۔ عوام زائد قیمت ادائیگی پر اس لیے مجبور ہیں کہ بہت کم مقامات پر گوشت دستیاب ہے۔ میٹ کی قیمت جو عام حالات میں 750روپئے فی کیلو تھی وہ لاک ڈائون کے بعد بڑھ کر 900 تا 1000 روپئے ہوچکی ہے۔ اسی طرح بیف کی عام قیمت 220 تا 260 روپئے تھی جو ہنگامی حالات میں بڑھ کر 400 روپئے ہوچکی ہے۔ گوشت کے معیار کے اعتبار سے قیمت وصول کی جارہی ہے۔ حکومت نے زائد قیمت پر فروخت کی صورت میں سخت کارروائی کا انتباہ دیا تھا لیکن کوئی عہدیدار گوشت کی دکانات کا اچانک معائنہ کرتے ہوئے قیمتوں کا جائزہ لینے تیار نہیں ہے۔ عوام کو آخر زائد قیمتوں سے نجات کب ملے گی؟