حیدرآباد ۔ 12 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : آر ٹی سی بسوں میں خواتین کے لیے مفت سفر کی سہولت فراہم کئے جانے کے باوجود پرانے شہر حیدرآباد کی خواتین آٹو رکشاؤں میں سفر کررہی ہیں کیوں کہ شہر کے جنوبی حصہ میں بس سرویس کی بہت کمی ہے ۔ خاطر خواہ بس سرویس دستیاب نہ ہونے کی وجہ پرانے شہر کے لوگ ٹرانسپورٹ کے دیگر ذرائع بشمول آٹوز اور شیرنگ آٹوز میں سفر کرنے پر مجبور ہیں ۔ پرانے شہر میں جو لوگ بسوں میں سفر کیا کرتے تھے اب اس سے محروم ہیں اور خواتین مفت سفر کی سہولت سے محروم ہیں۔ پرانے شہر کے مختلف مقامات پر بس سروسیس کی عدم دستیابی کے باعث لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ مسافرین کے مطابق کوویڈ لاک ڈاؤن کے دوران منقطع کیے گئے بس سروسیس کو ابھی تک پھر شروع نہیں کیا گیا ہے ۔ پرانے شہر کے مختلف علاقوں میں ایک کے بعد دیگر بس سرویس میں کمی کردی گئی یا سرویس کو برخاست کردیا گیا ۔ اہم مقامات کے درمیان چلائی جانے والی بعض بسوں کو مکمل طور پر روک دیا گیا یا نئے علاقوں میں چلایا جارہا ہے ۔ جس کی وجہ لوگ اس سہولت سے محروم ہورہے ہیں ۔ آر ٹی سی کی جانب سے اپوگوڑہ ، راجنا باولی ، لال دروازہ ، چھتری ناکہ ، گولی گوڑہ ، ایس آر ٹی کالونی ، یاقوت پورہ ، تالاب کٹہ ، وٹے پلی ، نواب صاحب کنٹہ ، تیگل کنٹہ ، کالے پتھر ، رین بازار اور شاہین نگر اور ان کے اطراف کے علاقوں میں چلائی جانے والی بسوں کو کم کردیا گیا یا انہیں برخاست کردیا گیا ہے ۔ لال دروازہ کے ساکن وینکٹیش نے کہا کہ پہلے یہاں کے لوگوں کو بس سرویس بشمول ریگولر اور منی بسیس جیسے 75R ( راجنا باولی تا کوٹھی ) ، 75A ( اپوگوڑہ تا کوٹھی ) ، 8U ( اپوگوڑہ تا سکندرآباد ) ، 8R ( اپوگوڑہ تا الوال ) ، 9M ( اپوگوڑہ تا صنعت نگر ) ، 65M (چارمینار تا مہدی پٹنم ) ، 127J ( چارمینار تا جوبلی ہلز ) دستیاب تھیں لیکن انہیں اور مزید کئی بسوں کو منقطع کردیا گیا ہے ۔ پرانے شہر کے ایک سماجی کارکن محمد احمد نے کہا کہ اب ہر جگہ خواتین مفت سفر کی سہولت سے استفادہ کررہی ہیں اور پرانے شہر کی خواتین سفر کے لیے پیسے خرچ کرنے پر مجبور ہیں ۔ تالاب کٹہ کے ساکن افضل خان نے کہا کہ ’ بسوں کی عدم دستیابی کے باعث ہم ہمارے بچوں کو مجبوراً آٹو رکشا میں اسکول بھیج رہے ہیں ‘ ۔۔