حیدرآباد ۔ 7 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : ریاست میں گذشتہ چند دنوں سے کوویڈ کیسیس میں ہورہے پھر اضافہ سے پرانے شہر حیدرآباد میں سیاحوں کی آمد میں بتدریج کمی ہورہی ہے ۔ پرانے شہر کی مارکٹس ، جہاں خریدار پھر سے خریداری کرنا شروع کئے تھے ، ان دنوں پھر سنسان دکھائی دے رہے ہیں ۔ عموماً دسمبر اور فروری کے درمیان پڑوسی ریاستوں سے شہر میں سیاحوں کی بڑی تعداد آتی ہے اور مارکٹس میں گہما گہمی ہوتی ہے ۔ اولڈ سٹی ٹریڈرس اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری عابد محی الدین نے کہا کہ گذشتہ سال کے مقابل سیاحوں کی آمد بہت کم ہے ، کم از کم گذشتہ سال کچھ بزنس ہوا تھا لیکن اب اتنا بھی نہیں ہے ۔ ہزاروں کی تعداد میں ملکی اور بیرونی سیاح پرانے شہر کے تاریخی مقامات اور مارکٹس دیکھنے کے لیے یہاں آتے ہیں جو چوڑیوں ، روایتی ملبوسات ، دست کاری اشیاء ، اور غذائی اشیاء کے لیے مشہور ہیں ۔ تقریبا 1500 تا 2000 لوگ روزانہ چارمینار دیکھنے کے لیے آتے ہیں ۔ جب کہ ویک اینڈس میں تو یہ تعداد اور بھی بڑھ جاتی ہے اسی طرح لوگوں کی ایک بڑی تعداد سالار جنگ میوزیم ، نظامس میوزیم اور چومحلہ پیالیس دیکھنے کے لیے آتی ہے ۔ اس یادگار عمارت کے ایک اسٹاف نے کہا کہ چارمینار آنے والوں کی تعداد میں کافی کمی ہوگئی ہے ۔ پڑوسی ریاستوں میں تحدیدات اور پابندیاں عائد ہیں جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے ۔ سینکڑوں بیوپاری موسم سرما کے دوران یہاں آنے اور خریداری کرنے والوں پر انحصار کرتے ہیں ۔ چوڑیوں کے ایک ٹریڈر محمد یوسف نے کہا کہ اب ہمارا کاروبار بہت کم ہوگیا ہے حتی کہ ویک ینڈس پر مقامی لوگ بھی کوویڈ کے خوف سے مارکٹ نہیں آرہے ہیں ۔ چارمینار کے قریب لاڈ بازار میں امیٹیشن جیولری فروخت کرنے والے شاہنواز خان نے کہا کہ گذشتہ لاک ڈاونس کے دوران ہم معاشی طور پر بہت متاثر ہوئے ، ہم کو توقع تھی کہ کم از کم اس سال حالات بہتر ہوں گے لیکن اب سیاحوں کی آمد نہ ہونے سے ہمارا بزنس ٹھپ ہوگیا ہے ۔ ایک تاجر نے کہا کہ اچھا وقت آنے کے لیے ہم خدا سے دعا کررہے ہیں ۔۔