پازیٹیو کیس پر صرف حصاربندی، عہدیداروں کی غفلت، متاثرین میں اضافہ کا باعث
حیدرآباد 23 اپریل (سیاست نیوز) پرانے شہر میں کورونا وائرس کے پازیٹیو کیس میں دن بہ دن اضافہ ہونے کے باوجود حکام کی جانب سے صاف صفائی، فیور سروے اور سائنٹائزیشن کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ صرف جن علاقوں میں پازیٹیو کیس درج ہوئے ہیں وہاں حصاربندی کرکے چھوڑ دیا جارہا ہے۔ عہدیداروں کی غفلت کی وجہ پرانے شہر میں متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ جبکہ جی ایچ ایم سی کے دوسرے علاقوں میں وباء کمزور پڑتی جارہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گریٹر حیدرآباد کے دوسرے علاقوں میں کورونا وائرس کا اثر کم ہورہا ہے تو چارمینار زون میں زور پکڑنے کی وجہ کیا ہے؟ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 450 سے زائد کورونا وائرس کے پازیٹیو کیس درج ہوئے ہیں جن میں چارمینار زون میں 210 سے زیادہ پازیٹیو کیس پائے جاتے ہیں۔ حکام کی جانب سے جن علاقوں میں متاثرین کی تعداد زیادہ پائی جاتی ہے وہاں صرف حصاربندی پر ہی اکتفا کیا جارہا ہے۔ وائرس کو کنٹرول کرنے کے لئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔ پرانے شہر کے بیشتر علاقوں کی یہی صورتحال ہے۔ عہدیدار اپنی غفلت اور کوتاہیوں کو چھپانے کے لئے دہلی کے تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے والوں سے یہ وائرس تیزی سے پھیلنے کا بہانہ بنایا جارہا ہے۔ شہر کے دوسرے علاقوں سے بھی لوگ دہلی کے اجتماع میں شرکت کرچکے ہیں مگر اُن علاقوں میں کورونا وائرس اتنی تیزی سے نہیں پھیل رہا ہے جتنا چارمینار زون میں پھیل رہا ہے۔ صاف صفائی کے اہتمام اور سائنٹائزم کے بارے میں عوام میں شعور بیدار کرنے میں جی ایچ ایم سی پوری طرح ناکام ہوجانے کی بھی متضاد رائے سامنے آرہی ہے۔ مقامی عوام نے بتایا کہ ان کے علاقوں میں صفائی کے مناسب اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔ چند کنٹینمنٹ زونس میں گاڑیوں کی آمد و رفت کا معاملہ ہے وہ جوں کا توں جاری ہے۔ پولیس کی جانب سے بھی نظرانداز کرنے کی شکایات عام ہیں۔ جن علاقوں کو ریڈ زونس قرار دیا گیا ہے وہاں روزانہ دو مرتبہ کچرے کی صفائی ہونی چاہئے۔ جن گھروں میں پازیٹیو کیسیس درج ہوئے ہیں وہاں سے کچرا علیحدہ طور پر منتقل کرنا چاہئے۔ صبح شام دو مرتبہ سوڈیم ہائی پوکلورائیڈ کا چھڑکاؤ ہونا چاہئے۔ اُس گھر کا روزانہ فیور سروے ہونا چاہئے۔ اشیائے ضروریہ ، ترکاری، دودھ وغیرہ گھروں تک پہنچنا چاہئے۔ کنٹینمنٹ زونس میں تمام لوگوں کا ماسک لگانا لازمی ہونا چاہئے۔ وائرس سے بچنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر عوام میں شعور بیدار کرانا چاہئے۔ پمفلٹس تقسیم کرنے کے ساتھ مائیک کے ذریعہ اناؤنسمنٹ کیا جانا چاہئے مگر پرانے شہر کے کنٹینمنٹ علاقوں میں ایسی کوئی سرگرمیاں نظر نہیں آرہی ہیں۔ علاقہ واری سطح پر مختلف شعبوں کیلئے نوڈل آفیسرس اور خصوصی ٹیمیں تشکیل دینے کے باوجود نتائج صفر نظر آرہے ہیں۔