حیدرآباد ۔ 4 ستمبر (سیاست نیوز) اسکولس کی دوبارہ کشادگی کے بعد پرانے شہر میں بالخصوص سلم علاقوں میں اولیائے طلباء فیس کی ادائیگی کیلئے اصرار کرنے والے خانگی اسکولس سے پیٹھ پھیر کر ان کے بچوں کو گورنمنٹ اسکولس میں شریک کروانے پر توجہ دے رہے ہیں کیونکہ وبا کے باعث غریب خاندان بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا سے پہلے کے اندازہ کے مطابق پرانے شہر میں زائد از 5000 خانگی اسکولس تھے اس کے علاوہ 130 تا 150 گورنمنٹ اردو میڈیم اسکولس تھے۔ اس طرح یہ تمام اسکولس غریب خاندانوں کے کوئی پانچ لاکھ طلبہ کو تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ تلنگانہ آل مائناریٹیز ایمپلائز اینڈ ورکرس اسوسی ایشن، رنگاریڈی ڈسٹرکٹ صدر حبیب عبدالرحمن نے کہا کہ ’’اسکولس کی دوبارہ کشادگی کے بعد ہم نے گورنمنٹ اردو میڈیم اسکولس میں داخلوں کے ایک حوصلہ افزاء رجحان دیکھا ہے۔ ان اسکولس میں نئے داخلوں میں کافی اضافہ ہوا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ریگولر داخلوں کے علاوہ غریب پس منظر کے بچوں کے داخلوں میں اضافہ ہوا ہے اور ان بچوں کی بڑی تعداد گورنمنٹ اسکولس میں داخلہ حاصل کیا ہے۔ ان بچوں کے والدین نے فیس کی ادائیگی کیلئے دباؤ کو برداشت نہ کرتے ہوئے انہیں خانگی اسکولس سے نکال لیا ہے اور اس طرح گورنمنٹ اسکولس بالخصوص سلم علاقوں کے اردو میڈیم اسکولس میں داخلوں میں اضافہ ہوا۔
راجندر نگر اور گنڈی پیٹ منڈلس میں 79 گورنمنٹ اسکولس ہیں۔ دونوں منڈلس میں 11 اردو میڈیم اسکولس ہیں۔ ان میں 10 اسکولس حسن نگر اور اس کے اطراف کے علاقہ میں واقع ہیں جو شہر کے مضافات میں ایک گنجان آبادی والا علاقہ سمجھا جاتا ہے جبکہ ایک اسکول گنڈی پیٹ منڈل میں نارسنگی میں کام کررہا ہے۔ ان II اسکولوں میں 1 تا X کلاسیس میں طلبہ کی تعداد 1,000 سے زائد ہے جبکہ زائد از 40 ٹیچرس پرائمری، اپرپرائمری اور ہائی اسکولس میں برسرکار ہیں۔ راجندر نگر کے محمد انور نے کہا کہ ہم ہمارے بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کرسکتے ہیں جو اب تک مقامی خانگی اسکولس میں زیرتعلیم تھے۔ پابندی سے اسکول مینجمنٹ کی جانب سے کسی نہ کسی بہانہ سے فیس طلب کی جارہی ہے۔ اب تک ہم نے اس کا انتظام کرپائے تھے لیکن اب ہم اس کو برداشت نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ ہم لاک ڈاؤن کے بعد مشکلات سے نکلنے میں جدوجہد کررہے ہیں۔ تاہم ہم ہمارے بچوں کو قریبی گورنمنٹ اسکول روانہ کریں گے اس سے کسی بوجھ کے بغیر بچوں کو تعلیم دلانے میں بھی مدد ہوگی۔ ایک کمیونٹی جہدکار سید شوکت علی نے کہا کہ ’’بعض خانگی اسکولس نے اولیائے طلباء کو مشکل میں ڈال دیا ہے جو ان کی معاشی حالت کا خیال کئے بغیر فیس کی ادائیگی کیلئے اصرار کررہے ہیں کم از کم اب تو حکومت کو گورنمنٹ اسکولس میں تمام تر سہولتیں فراہم کرنی چاہئے کیونکہ اولیائے طلباء ان کے بچوں کو ان اسکولس کو بھیجنے میں دلچسپی لے رہے ہیں‘‘۔