پرانے شہر میں غیر مجاز طور پر حلیم کی تیاری عوامی صحت کیلئے خطرہ

   

غیر معیاری تلن پر کنٹرول کی ضرورت، محکمہ صحت کے ماہرین کا اظہار تشویش

حیدرآباد۔/16 مئی، ( سیاست نیوز) کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ایک طرف حکومت نے ہوٹلوں، بیکریز ، سوئٹس شاپس اور دیگر غذائی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی ہے لیکن پرانے شہر میں غیر مجاز طور پر حلیم اور تلن سے متعلق اشیاء کا کاروبار عروج پر ہے جو کسی بھی وقت شہریوں کی صحت کیلئے خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔ محکمہ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ غذائی اشیاء کی تیاری میں شامل افراد اگر کورونا سے متاثر رہیں تو پھر اس کا استعمال کرنے والے تمام وائرس کا شکار ہوسکتے ہیں لہٰذا عوام کو غیر مجاز طور پر تیار کی جارہی غذائی اور تلن کی اشیاء کے استعمال سے گریز کرنا چاہیئے۔ ماہرین نے بتایا کہ حلیم کی تیاری میں احتیاط کو پیش نظر رکھتے ہوئے شہر کے تمام بڑے حلیم کے کاروباریوں نے جاریہ سال کاروبار بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔ حکومت نے شرط رکھی تھی کہ تیاری اور سربراہی میں شامل تمام ورکرس اور لیبرس کا کورونا ٹسٹ کرایا جائے۔ اس کے علاوہ فروخت کے مقامات پر سماجی فاصلہ کی برقراری ممکن نہیں تھی لہذا کاروباریوں نے جاریہ سال خود کو اس کاروبار سے الگ کرلیا۔ دوسری طرف پرانے شہر کے بیشتر علاقوں میں خفیہ طور پر حلیم کی غیر مجاز تیاری کے مراکز قائم ہیں جہاں سے گھنی آبادیوں میں اسے فروخت کیا جارہا ہے۔ پولیس سے بچتے ہوئے شام 4 بجے سے بیف اور چکن کی حلیم کی فروخت کا آغاز ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ تلن کی اشیاء کی فروخت بھی شام کے وقت میں عروج پر ہے۔ یہ دونوں سرگرمیاں عوام کیلئے مضرت رساں ثابت ہوسکتی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حلیم کی تیاری کے سلسلہ میں استعمال کی جانے والی اشیاء اور اس کام میں شامل افراد کے بارے میں کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ لہذا اس طرح کی غیر قانونی فروخت کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلہن کی اشیاء اکثر غیر معیاری ہوتی ہیں اور اس کے لئے جس تیل کا استعمال کیا جاتا ہے وہ بھی صحت بخش نہیں۔ کئی دن سے ایک ہی تیل میں ان اشیاء کو تیار کیا جاتا ہے جو موجودہ حالات میں نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے۔ پولیس، محکمہ صحت اور بلدیہ کو اس جانب فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ حلیم کی غیر قانونی بھٹیوں کو بند کرتے ہوئے عوامی صحت کا تحفظ ہوسکے۔ اکثر مقامات پر پولیس کے علم میں آنے کے باوجود کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ جس طرح غیر ضروری کاروباریوں کے خلاف کارروائی کی گئی اسی طرح موجودہ حالات میں احتیاط کا تقاضہ ہے کہ غیر مجاز طور پر تیار کردہ حلیم اور تلہن کی اشیاء کی فروخت پر روک لگائی جائے۔ عوام خاص طور پر غریب اور متوسط طبقات میں اس طرح کی اشیاء کی خریدی کے خلاف شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔وائرس سے محفوظ رکھنے کیلئے حکومت کی جانب سے ایسی اشیاء پر پابندی اور احتیاطی تدابیر سے متعلق شعور بیداری اپنی جگہ مسلمہ ہے لیکن عام حالات میں بھی اس طرح کی غیر معیاری اور پُراسرار طور پر تیار کی جانے والی اشیاء عوامی صحت کیلئے مضرت رساں ثابت ہوتی ہیں۔