پرانے شہر میں غیر مجاز پوسٹرس اور ہورڈنگس کے خلاف بلدیہ کی کارروائی بے اثر

   

نیا پل پر ہی کئی غیر مجاز ہورڈنگس ، تاریخی عمارتوں کے اطراف سیاسی قائدین کے چہروں کے ساتھ پوسٹرس کی بھرمار
حیدرآباد۔10 ڈسمبر(سیاست نیوز) مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے غیر مجاز پوسٹرس اور ہورڈنگس نکالنے کے اقدامات کے باوجود بھی پرانے شہر میں اس کا کوئی اثر نہیں دیکھا جا رہاہے بلکہ پرانے شہر میں داخل ہونے کے راستہ نیاپل پر ہی کئی غیر مجاز ہورڈنگس لگے ہوئے ہیں لیکن اس کے باجود مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کوئی کاروائی نہیں کی جاتی بلکہ شہر کے دیگر علاقوں میں غیر مجاز ہورڈنگس اور پوسٹرس کی صورت میں جی ایچ ایم سی عہدیداروں کی جانب سے بھاری جرمانے عائد کرتے ہوئے شہر کی خوبصورتی کو متاثر کرنے کے خلاف کاروائی کی جا رہی ہے جبکہ پرانے شہر میں تاریخی عمارتوں کے اطراف و اکناف بھی غیر مجاز بیانر‘ ہورڈنگس اور پوسٹرس لگائے جا رہے ہیں لیکن ان پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے اور نہ ہی ان کو ہٹانے کے لئے کاروائی جاتی ہے جس کے سبب سیاحتی مقامات پر پہنچنے والے سیاحوں کو شہر کی خوبصورتی نظر آنے کے بجائے تصاویر اور سیاسی قائدین کے چہرے ہی نظر آتے ہیں۔جی ایچ ایم سی کی جانب سے شہر کے کئی مقامات پرعہدیداروںنے منتخبہ اراکین
بلدیہ کو بھی بھاری چالان کرتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ وہ کسی کے بھی خلاف کاروائی کرسکتے ہیں اور اگر کوئی غیر مجاز ہورڈنگس یا بیانر نصب کرتے ہیں تو انہیں بخشا نہیں جائے گا بلکہ وہ کوئی بھی ہو انہیں بھاری چالان کیا جائے گا لیکن بلدیہ کی جانب سے چلائی جانے والی یہ مہم پرانے شہر تک نہیں پہنچ پاتی بلکہ کئی مقامات پر بیانرس اور پوسٹرس کے علاوہ ہورڈنگس من مانی انداز میں نصب کئے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود بلدی عہدیدار بے بس نظر آتے ہیں ۔بتایاجاتا ہے کہ شہر حیدرآباد میں جی ایچ ایم سی عہدیدارو ںکو اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مقام پر گندگی کی صورت میںگندگی پھیلانے والوں کے خلاف اور شہر کی خوبصورتی کو متاثر کرنے والوں پر ابتداء میں بھاری چالان کریں اور اگر اس کے باوجود بھی یہ سلسلہ جاری رہے تو جی ایچ ایم سی قوانین میں موجود گنجائش کے مطابق ان کے خلاف کاروائی کو یقینی بنایا جائے لیکن شہر کے مرکزی علاقہ تاریخی چارمینار کے دامن میں پھیلائی جانے والی گندگی کی متعدد مرتبہ نشاندہی کی جاتی ہے اور کئی مقامات پر تجارتی اداروں سے بہنے والے پانی کے علاوہ شراب کی دکانوں کے پاس پھیلائی جانے والی گندگی کے متعلق توجہ دہانی کے باوجود پرانے شہر میں جی ایچ ایم سی عہدیداروں کے ان احکامات کے نفاذ کے اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں جو کہ پرانے شہر سے سوتیلے سلوک کے مترادف ہے ۔