پرانے شہر میں لاک ڈاؤن کا کوئی اثر نہیں ،سڑکوں پر گھومنے والوں کی تعداد میں اضافہ

   

Ferty9 Clinic

ترکاری ، اجناس اور کرانہ دکانات میں ہجوم
حیدرآباد۔7اپریل(سیاست نیوز) شہرحیدرآباد میں جاری لاک ڈاؤن کے کوئی اثرات پرانے شہر میں نہیں دیکھے جا رہے ہیں بلکہ کورونا وائرس کی وباء کو نظر انداز کرتے ہوئے سڑکوں پر گھومنے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہاہے ۔ لاک ڈاؤن کے ابتدائی ایام میں شہریوں کی جانب سے کچھ حد تک لاک ڈاؤن کے احکام کی پابندی کی جا تی رہی اور اجناس و کرانہ کی دکانات کے علاوہ ترکاری کی دکانوں پر ہجوم دیکھا جا رہا تھا لیکن اب جبکہ لاک ڈاؤن کو2ہفتہ گذرچکے ہیں اس کے باوجود بھی پرانے شہر میں رعیتو بازار اور اجناس کی دکانات پر اشیائے ضروریہ کی خریدی کے نام پر لوگوں کے ہجوم دیکھے جانے لگے ہیں اور کہا جار ہاہے کہ لوگ اب بھی خریداری میں مصروف ہیں۔ شہر حیدرآباد کے علاقوں میں اگر شہریو ںکی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ پرانے شہر کے نوجوانوں کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ دنیا کس قدر سنگین حالات سے گذررہی ہے اور ان حالات میں ان کی کیا ذمہ داری ہے ۔ حکومت کی جانب سے متعدد مرتبہ اپیل کی جا رہی ہے کہ شہری اپنے گھروں میں رہیں اور بلا ضرورت شدید گھر سے نہ نکلیں اور اگر شدید ضرورت کے پیش نظر گھر سے نکلتے بھی ہیں توانہیں مکمل احتیاط کرنی چاہئے لیکن شہر حیدرآباد میں جو صورتحال دیکھی جا رہی ہے اس کا اندزہ لگانے کیلئے پرانے شہر کی گنجان آبادی والے علاقوں کے نظارے کافی ہیں جہاں اب بھی کسی شئے کی کوئی قلت نہیں ہے اور رات کے وقت نوجوان ایسے علاقوں کا انتخاب کرتے ہوئے جاگ رہے ہیں جہاں پولیس کی گشت کم ہوتی ہے۔ شاستری پورم کی پہاڑیوں میں رات کے وقت جاگنے والے نوجوانوں نے اپنا مرکز بنایا ہوا ہے اور صبح کی اولین ساعتوں تک وہ پہاڑیوں کے درمیان میں وقت گذار کراپنے گھروں کو واپس ہورہے ہیں۔ نئے شہر کے علاقوں میں انتہائی غریب آبادیوں اور سلم علاقوں میں لوگ بحالت مجبوری اپنے گھروں سے راشن کے حصول کے لئے باہر نکل رہے ہیں جبکہ پرانے شہر میں نوجوان یہ دیکھنے کے لئے باہر نکل رہے ہیں کہ باہر کی صورتحال کیا ہے۔ شہر کے کئی علاقو ںمیں ذمہ دار شہریوں کی جانب سے نوجوانو ں کو روکنے اور انہیں سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود کسی نہ کسی بہانے سے نوجوان جن میں اکثریت مسلم نوجوانوں کی ہے وہ سڑکوں پر نظر آرہے ہیں اور انہیں خود اس بات کا احساس نہیں ہے کہ وہ باہر کیوں نکل رہے ہیں علاوہ ازیں اپنے شوق پورے کرنے کیلئے وہ اپنے گھروالوں کی زندگیوں کو خطرہ میں ڈال رہے ہیں کیونکہ کورونا وائرس جب تک باہر سے لائیں گے نہیں گھر تک پہنچے گا نہیں یہ بات واضح ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود نوجوانوں میں پائی جانے والی یہ لا پرواہی شہریوں کو مشکلات میں مبتلاء کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔