جی نرنجن کا الزام ، میٹرو ریل کیلئے محض 10 لاکھ کی منظوری مضحکہ خیز
حیدرآباد ۔ 11 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی نے پرانے شہر میں میٹرو ریل کے پراجکٹ کی تکمیل میں حکومت اور اس کی حلیف جماعت مجلس پر عدم دلچسپی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ املی بن تا فلک نما میٹرو ریل پراجکٹ کا بجٹ میں کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ پارٹی کے ترجمان جی نرنجن نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہو ئے کہا کہ بجٹ میں میٹرو ریل کاموں کے لئے محض 10 لاکھ روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے سوال کیا کہ املی بن تا فلک نما پراجکٹ کی تکمیل کیا 10 لاکھ روپئے میں مکمل ہوجائے گی۔ ایل این ٹی کمپنی نے واضح کردیا ہے کہ جب تک حکومت بجٹ نہیں دیتی ، اس وقت تک پراجکٹ عمل نہیں کیا جاسکتا ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ حکومت کو پرانے شہر میں میٹرو ٹرین چلانے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ جی نرنجن نے مجلس کے فلور لیڈر اکبر اویسی کی خاموشی پر سسوال اٹھایا اور کہا کہ ٹی آر ایس حلیف جماعت ہے ، لہذا حکومت پر زائد بجٹ کے لئے دباؤ بنانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بجٹ میں مناسب فنڈس فراہم نہیں کئے جاتے ، اس وقت تک پرانے شہر میں میٹرو ٹرین ممکن نہیں ہے ۔ نرنجن نے پرانے شہر کی ترقی پر ٹی آر ایس اور مجلس کی عدم توجہی اور ڈرامہ بازی کا الزام عائد کیا ۔ بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے نرنجن نے کہا کہ کے سی آر نے تلنگانہ کو دولتمند ریاست قرار دیا تھا اور پانچ لاکھ کرو ڑ کا بجٹ پیش کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ لیکن محض ایک لاکھ 46 ہزار کروڑ کا بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ حیدرآباد کو استنبول اور ڈلاس کی طرح ترقی دینے کا اعلان کرنے والے کے سی آر نے بجٹ میں شہر کی تر قی کو نظر انداز کردیا ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو محض 25.33 کروڑ مختص کئے گئے جو ملازمین کی تنخواہوں کے لئے ناکافی ہیں۔ گزشتہ تین برسوں میں بلدیہ نے سڑکوں کی تعمیر کیلئے 25 ہزار کروڑ کا منصوبہ تیار کیا اور 2000 کروڑ خرچ کئے گئے ۔ بلدی حکام بجٹ میں 2000 کروڑ کی توقع کررہے تھے لیکن حکومت نے صرف 25 کروڑ مختص کئے ۔ میٹرو ڈیولپمنٹ اتھارٹی کیلئے 20 لاکھ روپئے کی منظوری دی گئی ۔ نرنجن نے بعض اداروں کی منظوریوں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مثال پیش کی کہ پولیس کمشنریٹ کی 352 کروڑ سے بنجارہ ہلز نے تعمیر کا کام جاری ہے ۔ 50 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اور حکومت نے آئندہ 6 ماہ کیلئے صرف 10,000 روپئے منظور کئے ہیں۔ انہوں نے شہر میں اراضیات فروخت کرنے کی تجویز کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ اراضیات آنے والی نسلوں کے لئے اثاثہ ہیں۔ انہوں نے چیف منسٹر کو مشورہ دیا ہے کہ وہ معاشی بحران سے نمٹنے کیلئے اخراجات میں کمی کریں ۔ سکریٹریٹ اور اسمبلی کی نئی عمارتوں کے نام پر سینکڑوں کروڑ روپئے ضائع کرنے کا منصوبہ ترک کردیا جائے ۔
ایس بی آئی اسپیشلسٹ کیڈر آفیسرس کے تقررات
حیدرآباد ۔ 11 ستمبر (سیاست نیوز) اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کی جانب سے اسپیشلسٹ کیڈر آفیسرس کی 477 جائیدادوں پر تقررات کیلئے درخواستیں طلب کی جارہی ہیں جن میں ڈیولپر، نیٹ ورک انجینئر، کلاؤڈ ایڈمنسٹریٹر، ڈیٹا بیس ایڈمنسٹریٹر اور آئی ٹی رسک منیجرس وغیرہ شامل ہیں۔ امیدوار کو متعلقہ سبجکٹ میں انجینئرنگ ڈگری، ایم سی اے ، ایم ایس سی (آئی ٹی) کامیاب ہونا چاہئے۔ امیدوار کا انتخاب آن لائن تحریری امتحان اور انٹرویو کے ذریعہ ہوگا۔ درخواستیں آن لائن کرنا ہوگا۔ ادخال درخواست کا آغاز 25 ستمبر سے ہوگا اور آن لائن تحریری امتحان 20 اکٹوبر 2019ء کو مقرر ہے۔ مزید تفصیلات کیلئے ویب سائیٹ www.sbi.co.in ملاحظہ کریں۔