محمد علی شبیر کا الزام ، شہر کی ترقی سے متعلق حکومت کے دعوے کھوکھلے
حیدرآباد : سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس اور مجلس نے بی جے پی سے ملی بھگت کے لئے کانگریس کو کمزور کرنے کی سازش تیار کی ہے۔ یہ تینوں پارٹیاں خفیہ سمجھوتہ کے تحت گریٹر حیدرآباد بلدی انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ ٹی آر ایس کے ساتھ بی جے پی اور مجلس جیسی فرقہ پرست جماعتیں ہیں جو سماج کو توڑنے کی منصوبہ بندی پر گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کی ترقی سے متعلق حکومت کے دعوے کھوکھلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر اور کے ٹی آر کا نام جھوٹے بیانات اور دعوؤں کے سلسلہ میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈس میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ بلدی انتخابات کے سلسلہ میں ٹی آر ایس کی جانب سے جاری کردہ انتخابی منشور کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر انتخابات کے دوران جھوٹے وعدوں کے ماہر ہیں، اسی طرح بلدی انتخابات میں عوام سے ناقابل عمل وعدے کئے جارہے ہیں۔ 2014 ء میں جو وعدے کئے گئے تھے، ان کی آج تک تکمیل نہیں کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے حیدرآباد کو ڈلاس اور پرانے شہر کو استنبول کی طرح ترقی دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن حالیہ بارش نے حکومت کے وعدوں اور دعوؤں کا پول کھول دیا ہے۔ چنچل گوڑہ جیل اور ریس کورس کو منتقل کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا تاکہ ان کی جگہ مختلف تعلیمی ادارے قائم کئے جاسکیں۔ 7 سال گزرنے کے باوجود شہر سے متعلق ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوا۔ چیف منسٹر کو انتخابی منشور کی اجرائی سے قبل پرانے وعدوں کی تکمیل کی وضاحت کرنی چاہئے ۔ کے سی آر نے حیدرآباد کی ترقی پر 30,000 کروڑ خرچ کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن 7 برسوں میں 10,000 کروڑ بھی خرچ نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس پارٹی نے تین علحدہ انسٹی ٹیوٹس آف میڈیکل سائنس قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ کورونا لاک ڈاؤن کے دوران وہیکل ٹیکس کی معافی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن آج تک یہ وعدہ پورا نہیں ہوا ہے۔ محمد علی شبیر نے موسیٰ ندی اور گوداوری کے پانی سے متعلق وعدوں کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ انہوں نے 2016 ء میں شہر کی ترقی سے متعلق 100 دن کے منصوبہ پر وائیٹ پیپر کی اجرائی کی مانگ کی۔ ڈبل بیڈروم مکانات کی فراہمی میں ٹی آر ایس حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ ایک لاکھ مکانات کی تعمیر کا وعدہ تھا لیکن ایک ہزار مکانات بھی تعمیر نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے عوام ٹی آر ایس کے انتخابی منشور پر بھروسہ نہیں کریں گے۔ محمد علی شبیر نے پرانے شہر میں میٹرو ریل کے آغاز میں مجلس کو اہم رکاوٹ قرار دیا اور کہا کہ جب کبھی حکومت نے پراجکٹ پر عمل آوری کی کوشش کی، مجلس نے رکاوٹ پیدا کردی۔ انہوں نے کہا کہ مجلس پرانے شہر کی ترقی نہیں چاہتی اور علاقہ کو ہمیشہ پسماندہ رکھتے ہوئے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔