موسیٰ ندی کے آبگیر علاقوں میں تفریحی مقامات ، شاپنگ مالس اور فائیو اسٹار ہوٹلس کا قیام
تاریخی عمارتوں کو مربوط کرتے ہوئے ٹورازم سرکٹ تیار کرنے کی ہدایت ، چیف منسٹر ریونت ریڈی کا جائزہ اجلاس
حیدرآباد ۔ 6 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر ریونت ریڈی نے میٹرو ریل کی توسیع اور راہداریوں کی تبدیلی کا پھر ایک مرتبہ جائزہ لیتے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے پر زور دیا ہے ۔ گچی باولی اور جوبلی ہلز کے لوگوں کی جانب سے ایرپورٹ جانے کیلئے ذاتی گاڑیوں کا استعمال کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے ماضی میں کیے گئے سروے کے مطابق گولی گوڑہ ، فلک نما تا ایرپورٹ اور ایل بی نگر تا ایرپورٹ میٹرو ریل چلانے تیاریاں کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ پرانے شہر سے زیادہ تر لوگ عرب ممالک کو روزگار کیلئے جاتے ہیں اور ان کے ارکان خاندان انہیں وداع کرنے بڑی تعداد میں ایرپورٹ پہونچتے ہیں ۔ انہیں میٹرو ریل کی سہولتیں فراہم کرنے پر زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت نے پہلے مرحلے میں موسیٰ ندی کے آب گیر علاقے میں 55 کلو میٹر تک میٹرو ریل چلانے کا منصوبہ تیار کیا ہے ۔ حکومت نے رنگ روڈ کے تمام اطراف علاقوں کو ترقی دینے کا منصوبہ تیار کیا ۔ اس کے علاوہ موسیٰ ندی کے آبگیر علاقوں کو بین الاقوامی سطح پر ترقی دینے کی بھی حکمت عملی تیار کی ہے جس میں تفریحی پارکس ، آبشار ( واٹر فالس ) چلڈرنس واٹر اسپورٹس ، اسٹریٹ وینڈرس ، بزنس ایریا کے علاوہ شاپنگ مالس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس کے علاوہ موسیٰ ندی کے آبگیر علاقوں میں تاریخی عمارتیں چارمینار ، گولکنڈہ ، سات گنبد ، تارہ متی بارہ دری ، وغیرہ کو ایک دوسرے سے مربوط کرکے بڑا سیاحتی مرکز ( ٹورازم سرکٹ ) بنانے پر بھی زور دیا ۔ ان علاقوں میں سرمایہ کاری کیلئے پی پی پی ماڈل کے ذریعہ ان شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے صنعت کاروں کو دعوت دینے کا حکم دیا ۔ ان علاقوں میں شام 6 بجے سے صبح 6 بجے تک عوام کو خوشگوار وقت گذارنے بنیادی سہولتیں دستیاب رکھنے کی حکمت عملی تیار کرنے کا مشورہ دیا ۔ موسیٰ ندی کے آب گیر علاقوں میں چیک ڈیمس تعمیر کرنے اور فوارے اور آبشار لگانے اقدامات کی ہدایت دی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ان علاقوں میں فائیو اسٹار ہوٹلس کیلئے بھی حکومت مکمل تعاون کریگی ۔ جن علاقوں میں سڑکوں کی پہلے سے عمدہ سہولتیں ہیں وہاں میٹرو ریل کی مزید سہولتیں فراہم کرنا بے فیض ہوگا جن علاقوں کی گنجان آبادی ہے اور وہاں ٹرانسپورٹ کی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں ایسی جگہوں پر میٹرو خدمات فراہم کی جائے تو عوام کو سہولت ہوگی ۔ متعلقہ علاقوں کی ترقی ہوگی عوام کو روزگار ملنے کے ساتھ میٹرو ریل کی آمدنی میں اضافہ ہوگا ۔ شہر میں جب میٹرو ریل چلانے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا اس وقت ایم جی بی ایس بس اسٹیشن تا فلک نما میٹرو ریل چلانا شامل تھا لیکن سابق حکومت نے اس منصوبہ کو ترک کرکے پرانے شہر کے عوام کو میٹرو ریل کی سہولتوں سے محروم رکھا ۔ 2