آغاز پر ہی کام سست روی کا شکار ، عہدیدار کچھ بھی کہنے سے قاصر
حیدرآباد۔16۔اگسٹ(سیاست نیوز) پرانے شہر میں میٹرو ریل کے تعمیری کاموں کے آغاز کااعلان اور اس سلسلہ میں چیف منسٹر کی خصوصی ہدایات محض انتخابی حربہ ہے! ریاستی حکومت کی جانب سے پرانے شہر میں 5.5کیلو میٹر طویل میٹرو ریل راہداری کے سلسلہ میں ریاستی حکومت بالخصوص چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی ہدایات کے ساتھ ہی عہدیداروں نے ایک ہفتہ تک اتنی سرگرمیاں دکھائی کہ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جلد ہی پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کاموں کا آغاز ہوجائے گا لیکن اعلان کے ساتھ ہی سرگرمیوں کے بعد اب حیدرآباد میٹرو ریل کے لئے پرانے شہر میں میٹروکے متعلق سرگرمیاں ماند پڑچکی ہیں اور عہدیداروں کا کہناہے کہ اس سلسلہ میں اعلیٰ عہدیداروں سے احکامات موصول ہونے کا انتظار ہے۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی جانب سے اعلان کے ساتھ ہی اندرون دو یوم حیدرآباد میٹروریل کے عہدیداروں نے دارالشفاء تا فلک نما میٹرو راہداری کے درمیان میٹرو اسٹیشنوں کی نشاندہی اور ان کے امکانی ناموں کے اعلان کے علاوہ اس راہداری میں متاثر ہونے والی جائیدادوں کی تفصیلات وغیرہ منظر عام پر لاتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ جلد ہی پرانے شہر میں میٹرو کے کاموں کا آغاز کردیا جائے گا ۔ چیف منسٹر کے اس اعلان کو ایک ماہ گذرنے کے بعد عہدیداروں سے دریافت کرنے پر کہا جا رہاہے کہ حکومت تلنگانہ نے اب جبکہ میٹرو ریل کو دیگر علاقوں تک توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے تو ایسی صورت میں پرانے شہر میں میٹرو ریل راہداری کے کاموں کے آغاز میں بھی تاخیر ہوسکتی ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے 10 جولائی 2023کو پرانے شہر میں میٹرو کے کاموں کو شروع کرنے کی ہدایات جاری کی تھی اور اس کے ساتھ ہی ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ چیف منسٹر کے سی آر کے احکامات کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے جلد ہی ان کاموں کو شروع کردیا جائے گا۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کی جانب سے کئے گئے اس ٹوئیٹ پر حیدرآباد میٹرو ریل کے علاوہ دیگر متعلقہ محکمہ جات کے عہدیداروں نے پرانے شہر میں میٹرو کے کاموں پر سنجیدہ اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے اس راہداری میں 5میٹرو اسٹیشن کے امکانی ناموں کو منظر عام پرلانے کے علاوہ اس بات کا اعلان کیا تھا کہ زائد از 1000 جائیدادوں کو اس راہداری کے لئے حاصل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے اور اندرون ایک ماہ اس عمل کا آغاز کردیا جائے گا لیکن اب ایک ماہ گذر جانے کے باوجود اس راہداری پر متاثر ہونے والی جائیدادوں کو کوئی نوٹس کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی اور نہ ہی ان جائیدادوں کے حصول کے سلسلہ میں کوئی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق عہدیداروں نے اس سلسلہ میں دوبارہ خاموشی اختیار کرلی ہے اسی لئے ان کے ماتحت عہدیدارپرانے شہر میں میٹرو ریل کے سلسلہ میں ہونے والی پیشرفت کے متعلق کچھ بھی کہنے سے قاصر ہیں۔م
