سروے اور تکنیکی امور کی تکمیل، پرانے شہر کی راہداری پر تعمیری و ترقیاتی کام کا عدم آغاز
حیدرآباد۔6مئی (سیاست نیوز)میٹرو ریل کے سلسلہ میں پرانے شہر کے عوام سے کئے جانے والے وعدوں کو کم از کم اب پورا کرنے کا عمل شروع کیا جائے یا عوام پر واضح کردیا جائے کہ پرانے شہر کے رہنے والوں کے لئے میٹروریل کی سہولت فراہم نہیں کی جائے گی ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے متعدد مرتبہ یہ کہا جا چکا ہے کہ حکومت پرانے شہر میں میٹروریل کے تعمیری وترقیاتی کاموں کے آغاز کے لئے سنجیدہ ہے اور وہ اس پراجکٹ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے اقدامات میں مصروف ہے۔ حیدرآباد میٹرو ریل اور لارسن اینڈ ٹربو کے تکنیکی عہدیداروں کے مطابق پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کاموں کے آغاز کے سلسلہ میں تکنیکی امور کا جائزہ لیا جاچکا ہے اور اعلیٰ عہدیدارو ںکو رپورٹ پیش کی جاچکی ہے لیکن حکومت کی جانب سے جتنی تاخیر ہوگی اس پراجکٹ کے لئے اتنی ہی زیادہ رقم درکار ہوگی ۔ حیدرآباد میٹروریل کی منصوبہ بندی کے ساتھ ہی پرانے شہر کی راہداری اس میں شامل تھی لیکن سیاسی مفادات کی بنیادوں پر اس راہداری میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی تھیں اور پرانے شہر کے علاوہ دیگر راہداریوں پر بھی یہ مسائل تھے لیکن تمام راہداریوں سے ان مسائل کو حل کرتے ہوئے میٹرو ریل کے کاموں کو مکمل کرلیا گیا لیکن اس کے برعکس پرانے شہر کی راہداری پر تعمیری و ترقیاتی کاموں کے آغاز کے سلسلہ میں اب بھی صرف تیقنات دیئے جا رہے ہیں۔ پرانے شہر کے جن علاقوں سے میٹرو ریل کو گذارنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اسی منصوبہ کے تحت کاموں کو شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے جائیدادوں کے حصول کے عمل کو شروع کرنے کی جا رہی ہے چند برس قبل بھی جی ایچ ایم سی کے اعلیٰ عہدیداروں نے اس راہداری کا جائزہ لینے کے بعد سڑک کی توسیع میں آنے والی جائیدادوں کی نشاندہی کرتے ہوئے حصول جائیداد کا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا تھا اور پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے منتخبہ عوامی نمائندوں کی جانب سے بھی اندرون چند ماہ میٹرو ریل کے کاموں کے آغاز کے سلسلہ میں اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود اب تک یہ کام شروع نہیں ہوپائے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ جاریہ مالی سال کے دوران بھی ان کاموں کے آغاز کا امکان نہیں ہے کیونکہ ریاستی حکومت کی جانب سے پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کاموں کے لئے علحدہ بجٹ کی تخصیص اور اجرائی کے اقدامات کئے جانے ہیں اور حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں اب تک محض اعلان کیا گیا ہے بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں کوئی احکام جاری نہیں کئے گئے ۔م