اکثریتی علاقوں میں منی بس خدمات بند ، ملازمین ، طلبہ اور مسافرین کو تکلیف کا سامنا
حیدرآباد۔23 اگسٹ(سیاست نیوز) شہر میں آرٹی سی خدمات کو باقاعدہ بنانے میں ناکام منتخبہ عوامی نمائندوں سے پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کاموں کے آغاز کی توقع کرنا فضول ہے۔ جو نمائندے پرانے شہر کے عوام کو بہتر بس کی سہولت فراہم نہیں کرپا رہے ہیں وہ کیا پرانے شہر کے عوام کو حیدرآباد میٹرو ریل کی سہولت فراہم کروائیں گے!پرانے شہر کے محلہ جات میں جہاں بس کی سہولت ہوا کرتی تھی ان علاقوں میں ٹریفک میں اضافہ کے بعد تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی جانب سے منی بسوں کے چلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور شہر کے کئی علاقوں میں منی بسیں چلائی جا رہی تھیں لیکن اب ان منی بسوں کا دور بھی ختم ہوگیا اور ان علاقوں میں بنیادی حمل و نقل کی سہولتوں کے نام پر خانگی سواریوں کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ دونوں شہروں حیدرآبادوسکندرآباد میں اگر سٹی بس کی سہولتوں کا جائزہ لیا جائے تو سابق میں یاقوت پورہ‘ تالاب کٹہ‘ سنتوش نگر‘ مادننا پیٹ ‘ شاہ گنج‘ مصری گنج‘ فتح دروازہ ‘دودھ باؤلی‘ کالا پتھر ‘ حسینی علم‘ محبوب چوک ‘ تاڑبن اور دیگر علاقوں میں بھی بس خدمات ہوا کرتی تھیں اور شہری ان بس خدمات سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے اپنی منزل مقصود تک پہنچتے تھے لیکن شہر میں توسیع اور حدود میں اضافہ کے علاوہ نئی بستیوں کے آباد ہونے کے بعد ان قدیم محلہ جات میں جو بس خدمات تھی وہ تو باقی نہیں رہی لیکن شہر کے نواحی علاقوں میں جہاں نوآبادیاتی علاقہ جات ہیں وہاں بس خدمات فراہم کی جا رہی ہیں اور پرانے شہر کو پوری طرح سے نظرانداز کیا جانے لگا ہے۔ پرانے شہر کے علاقہ یاقوت پورہ کے علاوہ کئی علاقوں سے بس مسافرین کی بڑی تعداد بس کے حصول کے لئے شاہ علی بنڈہ یا خلوت پہنچتی ہے یا پھر بہادر پورہ اور انجن باؤلی یا فلک نما سے بس پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن پرانے شہر کے جن علاقوں کے لئے اب بھی بس سروس موجود ہے ان علاقوں میں لعل دروازہ ‘ اپوگوڑہ ‘ جنگم میٹ‘ پرانا پل‘ چمپا پیٹ‘ کے علاوہ دیگر علاقہ جات شامل ہیں ۔جگہ کی تنگی اور ٹریفک میں پیدا ہونے والے خلل کو دیکھتے ہوئے بڑی بسوں کی جگہ پرانے شہر میں منی بسوں کو چلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن بتدریج منی بسیں بھی پوری طرح سے ختم کردی گئی ہیں جس کے سبب پرانے شہر کے بس مسافرین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے عہدیداروں سے اس سلسلہ میں استفسار کی صورت میں کہا جا رہاہے کہ مسافرین کی تعداد میں کمی کے سبب آرٹی سی کو خسارہ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ پرانے شہر کے مسلم علاقوں کے مکینوں کا الزام ہے کہ آر ٹی سی عہدیداروں کو متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود وہ بس خدمات کو بحال کرنے کے بجائے ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں اور منتخبہ عوامی نمائندوں کی جانب سے بھی اس سلسلہ میں توجہ دہانی کروائے جانے کے باوجود اس کے کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہو رہے ہیں۔M