پرانے شہر میں میٹرو ٹرین سیاسی حربہ، الیکشن کیلئے عوام کو خوش کرنے کی کوشش

   

محمد علی شبیر کا الزام، پراجکٹ کا معاہدہ نہیں ہوا، مجلس اور بی آر ایس کی مشترکہ چال
حیدرآباد ۔17۔ جولائی (سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے پرانے شہر میں میٹرو ٹرین پراجکٹ کی سرگرمیوں سے متعلق اعلان کو بی آر ایس اور مجلس کا سیاسی حربہ قرار دیا اور کہا کہ الیکشن سے عین قبل عوام کو خوش کرنے کیلئے یہ اعلان کیا گیا جبکہ حقیقت میں پراجکٹ کی کوئی تیاری نہیں ہے۔ محمد علی شبیر نے افسوس کا اظہار کیا کہ پرانے شہر کے عوام کو پھر ایک مرتبہ میٹرو ٹرین کے نام پر دھوکہ دینے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ پراجکٹ کے لئے حکومت اور حیدرآباد میٹرو ریل لمٹیڈ کے درمیان کوئی معاہدہ تک نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے کان خوش کرنے اور اسمبلی انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کیلئے بی آر ایس اور مجلس نے مشترکہ طور پر چال چلی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت کو اسمبلی انتخابات سے عین قبل پرانے شہر کی ترقی کا خیال کیوں آیا ؟ گزشتہ 9 برسوں کے دوران میٹرو ریل پراجکٹ پر خاموش کیوں رہے۔ پراجکٹ سے محرومی کی صورت میں عوامی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے الیکشن سے عین قبل پراجکٹ پر عمل آوری کا اعلان کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے پراجکٹ کی تکمیل میں حکومت کی سنجیدگی پر سوال اٹھائے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ 1000 سے زائد جائیدادوں کے حصول کیلئے نوٹس کی اجرائی کا عمل آئندہ ماہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو خود اس بات کا ثبوت ہے کہ پراجکٹ میں حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔ حکومت نے میٹرو ریل پراجکٹ کیلئے بجٹ میں دو مرتبہ 500 کروڑ روپئے مختص کئے تھے لیکن حکومت اور حیدرآباد میٹرو ریل لمٹیڈ کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تفصیلی پراجکٹ رپورٹ اور بجٹ کے بغیر کام کس طرح شروع ہوگا۔ پراجکٹ کی مالیت 2000 کروڑ سے زائد ہوسکتی ہے لیکن عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے کہ صرف 500 کروڑ روپئے میں پراجکٹ مکمل کرلیا جائے گا ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کمپنی پر بیان جاری کرنے کیلئے دباؤ بنایا گیا تاکہ الیکشن میں فائدہ ہو۔ سابق کانگریس حکومت نے مرحلہ اول کے تحت 72 کیلو میٹر طویل میٹرو پراجکٹ کو منظوری دی تھی جس میں املی بن تا فلک نما 5.5 کیلو میٹر راہداری کو شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر سنجیدہ ہے تو اسے فلک نما سے راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ تک میٹرو لائین کو توسیع دینی چاہئے۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ بی آر ایس حکومت پراجکٹ کو روکنے کیلئے قانونی رکاوٹیں کھڑی کرے گی۔ر