پرانے شہر میں میٹرو چلانے کا منصوبہ دھرا کا دھرا رہ جائیگا

   

Ferty9 Clinic

حصول اراضیات کیلئے 100 کروڑدرکار ، 5 اسٹیشنوں کی تعمیرپر 1250 کروڑ روپئے کے اخراجات
حیدرآباد۔ /29 جولائی، ( سیاست نیوز) پرانے شہر میں میٹرو ریل کا دوڑنا محض ایک خواب رہ جانے کے اشارے مل رہے ہیں۔ پرانے شہر میں میٹرو ریل چلانے ماضی میں کافی دوڑ دھوپ کی گئی مگر ایک قدم بھی پیشرفت نہیں ہوئی جس سے شکوک کو تقویت حاصل ہورہی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے حال ہی میں میٹرو تعمیری اداروں کے ذمہ داروں سے ملاقات کی ہے۔ خسارہ میں چلنے والے میٹرو ادارہ کو مالی تعاون فراہم کرنے کا تیقن دیا ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے کس قسم کی امداد فراہم کی جائے گی اس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے پرانے شہر کے بشمول رائے درگم تا شمس آباد انٹر نیشنل ایرپورٹ تک میٹرو ریل چلانے کا معاملہ تعطل کا شکار ہوگیا ہے اور اس پر تجسس برقرار ہے۔ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ایم جی بی ایس تا فلک نما ( 5.5 کیلو میٹر ) تک ریلوے پٹریاں بچھانے 1000 سے زائد جائیدادوں کے حصول کے ساتھ 69 مذہبی مقامات کو بچا کر میٹرو کیلئے درکار اراضیات کو حاصل کرنا ہے۔ پرانے شہر میں میٹرو ریل چلانے 1000 جائیدادیں حاصل کرنا ہے اور اس کیلئے 1200 کروڑ کا معاوضہ ادا کرنا ہوگا ۔ سالار جنگ میوزیم، چارمینار، شاہ علی بنڈہ، فلک نما، شمشیر گنج علاقوں میں 5 میٹرو اسٹیشنس کی تعمیر کیلئے 1250 کروڑ کے مصارف کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔ تعمیری کاموں کے آغاز کیلئے حصول اراضیات میں تاخیر پر تعمیری مہلت میں اضافہ کا امکان ہے جس سے تعمیری اخراجات میں بھی مزید اضافہ ہوگا۔ ان روٹس پر موجود 69 مذہبی مقامات کو نقصانات پہنچنے کے خدشات ہیں جس کی وجہ سے تعمیری ادارہ ایل اینڈ ٹی پرانے شہر میں میٹرو ریل کے تعمیری کام کا آغاز کرنے میں دلچسپی نہیں دکھارہا ہے۔ ماضی میں میٹرو عہدیداروں کی جانب سے ایم جی بی ایس تا دارالشفاء، پرانی حویلی، میر عالم منڈی، اعتبار چوک، بی بی بازار چوراستہ ، ہری باؤلی، شاہ علی بنڈہ، سید علی چبوترہ، علی آباد، شمشیر گنج سے فلک نما تک میٹرو چلانے دوڑ دھوپ کی تھی مگر کام ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا ہے۔ دوسری طرف پہلے مرحلہ کی میٹرو ریل کے کاموں میں تاخیر کی وجہ سے بینکوں سے حاصل کردہ قرض پر سود اور دوسرے تعمیری اخراجات میں اضافہ سے 4 ہزار کروڑ روپئے تعمیری اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ اضافی اخراجات حکومت کی جانب سے ادا کرنے کی تعمیری کمپنیوں نے نمائندگی کی ہے۔