سٹی پولیس کمشنر انجنی کمار کی ہدایت کے باوجود عمل ندارد، اعلیٰ عہدیداران خاموش تماشائی
حیدرآباد: محکمہ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے میڈیکل ایمرجنسی اور دیگر لازمی خدمات کیلئے نکلنے والوں کو ہراساں نہ کئے جانے کی ہدایات کے باوجود اس کا اثر پرانے شہر میں لگائے جانے والے چیک پوسٹ پر موجودعہدیداروں پر نہیں ہوا کیونکہ پرانے شہر کے علاقوں میںلگائے جانے والے چیک پوسٹس پر کمشنر پولیس مسٹر انجنی کمار کی واضح ہدایات کے باوجود عہدیداروں اور پولیس ملازمین کی جانب سے ہراسانی کا سلسلہ جاری رہا اور لازمی خدمات کے لئے لاک ڈاؤن کے دوران گھروں سے نکلنے والوں کو پولیس اہلکاروں کی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ بندلہ گوڑہ ‘ شاہ علی بنڈہ ‘ ملک پیٹ‘ مدینہ سرکل کے علاوہ دیگر علاقوں میں لگائے گئے پولیس چیک پوسٹس پر موجود ہوم گارڈس اور کانسٹبلس تک شائد کمشنر پولیس کا پیغام نہیں پہنچ پایا تھا یا پھر چیک پوسٹ پر موجود عہدیداروں کی جانب سے ان کانسٹیبلس اور ہوم گارڈس کو اس بات کی ہدایا ت جاری کی جا رہی تھیں کہ وہ راہگیروں سے شناختی کارڈس اور دیگر دستاویزات کی جانچ کے لئے ٹریفک کو جام کریں۔ بندلہ گوڑہ مسجد محی السنہ کے روبرو لگائے گئے چیک پوسٹ کے علاوہ ورم گڈہ کے پاس لگائے جانے والے چیک پوسٹ پر موجود اہلکاروں کی جانب سے راہگیروں کو روکتے ہوئے ان کے دستاویزات اور شناختی کارڈس چیک کئے جا رہے تھے اور ورم گڈہ ریلوے ٹریک کے قریب پولیس عہدیداروں کی جانب سے ضعیف العمر شہریوں کے ساتھ بدتمیزی کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ بندلہ گوڑہ چیک پوسٹ پر پولیس عہدیداروں کی جانب سے لاریوں کے دستاویزات کی جامع تلاشی کے سبب سڑک پر ٹریفک جام رہنے لگی جس کی وجہ سے ایمبولنس کو گذرنے میں بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا تھا لیکن بعد ازاں ایمبولنس کے لئے علحدہ راہ فراہم کی گئی لیکن تلاشی اور دستاویزات کی تنقیح کا سلسلہ جاری رہا۔ نئے شہر کے علاقوں میں اس طرح کی کوئی جامع تلاشی یا تنقیح کی کوئی شکایات موصول نہیں ہوئی لیکن شاہ علی بنڈہ پر لگائے گئے چیک پوسٹ پر حوالداروں اور ہوم گارڈس کے ذریعہ تنقیح کے عمل کے سبب شہریوں بالخصوص راہگیروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا تھا اور اس چیک پوسٹ پر بھی ٹریفک جام دیکھی گئی۔ ملک پیٹ اور مدینہ سرکل پر بھی پولیس اہلکار بالخصوص کانسٹبلس اور ہوم گارڈس کی جانب سے راہگیروں کے شناختی کارڈس اور دستاویزات طلب کئے جا رہے تھے جبکہ چیک پوسٹ پر تعینات اعلیٰ عہدیدار سخت دھوپ کے سبب اپنی ایئر کنڈیشن گاڑیوں میں آرام کررہے تھے۔