پرانے شہر میں ٹریفک سگنلس، سڑکوں کی کشادگی نظرانداز

   

عوامی بیت الخلاء محدود، فلائی اوور کی تعمیر سست روی کا شکار
حیدرآباد۔5 ستمبر (سیاست نیوز) جی ایچ ایم سی حدود میں ترقیاتی کاموں کی رفتار میں پرانے شہر کو جان بوجھ کر پیچھے رکھا جاتا ہے!شہر کے اس حصہ میں شروع کئے جانے والے ترقیاتی کاموں کی عاجلانہ تکمیل کو یقینی بنانے کے اقدامات کیوں نہیں کئے جاتے! پرانے شہر کے مکین اب اس بات پر غور کرنے لگے ہیں کہ پرانے شہر میں شہریوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے علاوہ ان کیلئے ترقیاتی اقدامات کے اعلانات پر عمل کیوں نہیں!شہر حیدرآباد کے علاقہ پرانے شہر میں ترقیاتی کاموں کے اعلانات و افتتاح تو کئے جاتے ہیں لیکن ان کاموں کی تکمیل اور ان کو پوراکرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی جاتی بلکہ اس علاقہ کے کاموں کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔پرانے شہر کی ترقی کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات خواہ و میٹرو ریل کا مسئلہ ہویا شہر کے اس خطہ میں گنجان آبادیوں تک بس کی سہولت ہو۔شہر کے دیگر علاقوں کی طرح معیاری فٹ پاتھ کی سہولت کی فراہمی ہو یا پھر پرانے شہر کے تجارتی علاقو ںمیں بیت الخلاء کی تعمیر کا معاملہ ہو۔چوڑی سڑکیں ہوں یا ٹریفک کے سگنل کی تنصیب کا مسئلہ ہو پرانے شہر کو نظر انداز کرنے کی پایسی کے نتیجہ میں پرانا شہر ترقی سے محروم علاقہ تصور کیا جانے لگا ہے اور شہریوںمیں اس بات کا احساس پید ا ہورہا ہے کہحکومت کی جانب سے شہر کے اس تاریخی خطہ کو ترقی سے محرومرکھا جا رہاہے ۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب بہادر پورہ فلائی اوور کی تعمیر کے کاموں کا آغاز کیا گیا اور اسی طرح سے پھسل بنڈہ فلائی اوور کے کاموں کا سلسلہ جاری ہے لیکن طویل مدت سے جاری ان کاموں کی رفتار انتہائی سست ہے۔ شہر کے کئی مقامات پر عوامی بیت الخلاء تعمیر کئے گئے تاکہ عوام کو سہولت حاصل ہو لیکن پرانے شہر میں عوام کو اس سہولت کی فراہمی میں بھی نظر انداز کرتے ہوئے بعض علاقوں میں بیت الخلائنصب کئے گئے ۔M