عام شہری پریشان حال ، پولیس اہلکار کارروائی کرنے کے بجائے نگران کار
حیدرآباد۔21۔اگسٹ(سیاست نیوز) رات دیر گئے پرانے شہر کے علاقوں میں بھی شراب کی فروخت معمول کی بات بنتی جا رہی ہے اور پولیس کی جانب سے رات میں عام شہریوں کو پریشان کیا جاتا ہے جب کہ پولیس کی ناک کے نیچے شراب کی فروخت کی جا رہی ہے۔ رات دیر گئے بندلہ گوڑہ کے علاقہ کیشوگیری میں شراب کی فروخت روز کا معمول بن چکا ہے اور رات 12 بجے کے بعد سے 3 بجے تک بھی اس علاقہ میں بار اور دکان بند ہونے کے باوجود شراب کی فروخت کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور پولیس بھی اس بات سے واقف ہے لیکن شراب کی فروخت کو بند کروانے کے بجائے اس راستہ پر متعین پولیس اہلکارعلاقہ کی نگرانی میں مصروف ہوتے ہیں۔ اسی طرح شمشیر گنج کے علاقہ میں موجود شراب کی دکان بھی رات کے اوقات میں بند کردی جاتی ہے لیکن متصل گلی میں موجود بار سے رات دیر گئے تک بھی شراب کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔ بہادر پورہ کے علاقہ میں بھی رات کے اوقات میں شراب کی فروخت پر پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جبکہ سابق میں خیریت آباد ‘ پرانا پل ‘ ہائی ٹیک سٹی کے بعض علاقوں کے علاوہ نکلس روڈ پر غیر مجاز شراب کی فروخت ہوا کرتی تھی لیکن گذشتہ چند برسوں سے شہر کے کئی علاقوں بالخصوص رہائشی علاقوں میں بھی شراب کی فروخت کو عام کیا جا رہاہے جو کہ علاقہ کے عوام کے لئے تکلیف کا باعث بن رہا ہے ۔ کیشو گیری کے علاقہ میں شراب کی دکان اور بار کے آغاز کے بعد سے علاقہ کے عوام میں شدید برہمی پائی جاتی ہے اور اس علاقہ کے عوام نے مسلسل شکایات بھی درج کروائی ہیں لیکن اس کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی گئی بلکہ رات دیر گئے غیر مجاز طور پر شراب کی فروخت کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد اطراف واکناف کے علاقوں کے شرابی جو رات دیر گئے اس رہائشی علاقہ میں پہنچ رہے ہیں ان کی ہنگامہ آرائی سے مقامی عوام کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اسی طرح شمشیر گنج سے انجن باؤلی سڑک پر موجود شراب کی دکان کے شرابیوں کی ہنگامہ آرائی روز کا معمول تھا لیکن گذشتہ چند ماہ سے رات دیر گئے متصل گلی میں رات دیر گئے شراب کی فروخت نے اس علاقہ کے عوام کی مشکلوں میں بھی اضافہ کردیا ہے اور یہاں بھی مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شرابی رات دیر گئے پہنچ کر ہنگامہ آرائی کررہے ہیں۔بہادر پورہ میں لب سڑک شراب کی رات دیر گئے چوری چھپے فروخت اور بعض گلی کوچوں میں شراب کی فروخت کی وجہ سے اس علاقہ میں بھی کئی غیر مقامی افراد پہنچ کر شراب خرید رہے ہیں اور سنسان گلیوں اور رہائشی علاقوں میں مئے نوشی کرنے لگے ہیں۔
