مسئلہ کی یکسوئی سے عہدیداروں کی لاپرواہی ۔ صاف پانی خرید کر پینے کارپوریٹرس کے مشورے
حیدرآباد۔27 اگسٹ(سیاست نیوز) آلودہ پانی کی سربراہی کی شکایات کے باوجود محکمہ آبرسانی کی لاپرواہی سے عوام کو تکالیف کا سامنا ہے۔ یاقوت پورہ ‘ املی بن‘ مغلپورہ‘ نشیمن نگر‘ تالاب کٹہ‘ چندرائن گٹہ ‘ بارکس‘ حافظ بابا نگر‘ تاڑبن‘ کالا پتھر‘ نواب صاحب کنٹہ کے علاوہ پرانے شہر کے کئی علاقوں میں آلودہ پانی کی سربراہی جاری ہے ۔ عہدیداران اور منتخبہ نمائندوں کی عدم توجہی سے مسئلہ کا حل نہیں نکالا جاسکا ۔ اب جبکہ بارش اور وبائی امراض کا سلسلہ جاری ہے پینے کے پانی میں آلودگی شہریوں کو خدشات میں مبتلاء کر رہی ہے ۔ان شکایات کے متعلق منتخبہ نمائندوں کو بھی اندازہ ہے لیکن وہ مسئلہ کو ٹالنے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں اور وہ عوامی صحت سے لاپرواہ ہیں۔ جب کارپوریٹرس سے یہ مسئلہ رجوع کیا جا رہا ہے تو کہا جا رہا ہے کہ ٹھنڈا ‘ صاف پینے کا پانی باضابطہ ایک روپیہ میں 10لیٹر فروخت کیا جا رہا ہے وہ خریدکر استعمال کریں ۔ پانی کی فروخت کے یہ مراکزشہر کے بیشتر علاقوں میں موجود ہیں اور مراکز سے حالیہ دنوں میں پانی کی فروخت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ آبرسانی کا کہنا ہے کہ شہر میں صاف پینے کا پانی سربراہ کرنے اقدامات کئے جا رہے ہیں لیکن بعض علاقوں سے ملنے والی شکایات کو دور کرنے طویل مدتی پراجکٹ درکار ہے اور اس کو عملی جامہ پہنانے بھاری بجٹ کی ضرورت ہے۔ آلودہ پانی کے سلسلہ میں عہدیداروں نے بتایا کہ جہاں تک ممکن ہوسکے صاف پانی کی سربراہی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں لیکن آلودہ پانی کی وجوہات دریافت کئے جانے کے بعد ہی مسئلہ کو حل کیا جاسکے گا۔ یاقوت پورہ کے جن علاقوں سے شکایات موصول ہو رہی ہیں ان میں آبی پائپ لائن کی تبدیلی کا منصوبہ ہے ۔ عوام کا کہنا ہے کہ نلوں سے جو پانی آرہاہے اس پانی میں ڈرینیج کا پانی ملا ہوا ہے ۔ محکمہ آبرسانی کو متعدد مرتبہ توجہ دلوائی گئی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا جس سے عوام نہ صرف پانی خرید کر استعمال کرنے پر مجبور ہیں بلکہ بعض علاقوں میں تو آلودہ پانی گرم کرکے استعمال کیا جا رہاہے ۔ آلودہ پانی مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ بہادر پورہ ‘ کشن باغ ‘ حسینی علم‘نشیمن نگر ‘ کالاپتھر ‘ تالاب کٹہ اور مغلپورہ کے علاقوں سے بھی اسی طرح کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔M