عوام کو وائرس کے خوف سے باہر لانے شعور بیداری لازمی ، سردی ، کھانسی و بخار کو نظر انداز نہ کرنے کا مشورہ : ڈاکٹر ایس اے مجید
حیدرآباد۔5جون(سیاست نیوز) شہر کی گنجان آبادی والے علاقہ پرانا شہر میں کم از کم 4 کورونا وائرس کے معائنوں کے مراکز کا فوری قیام عمل میں لاتے ہوئے کورونا وائرس کے مریضوں کی جانچ اور نشاندہی کے عمل کو بہتر بنایاجاسکتا ہے کیونکہ پرانے شہر میں اب جبکہ مریضوں کی تعداد میںاضافہ ہونے لگا ہے تو انہیں قریبی کوئی مقام پر کورونا وائرس کے معائنہ کی سہولت حاصل نہیں ہے۔ پرانے شہر کے علاقوں میں گنجان آبادیوں کے مکینوں میں شعور بیداری کے ذریعہ انہیں اس بات کا احساس کروانا بھی ناگزیرہے کہ کورونا وائر س کا معائنہ کوئی ایسا معائنہ نہیں ہے جو خطرناک ہے بلکہ یہ ایک وائرل فیور کے معائنہ کی طرح ہے جس طرح ٹائیفڈ اورملیریا کے معائنہ کروائے جاتے ہیں اسی طرح یہ معائنہ ہے۔ عوام میں کورونا وائرس کے معائنہ کے خوف اور بیماری کے متعلق پائے جانے والے شکوک و شبہات کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔معروف ماہر ذیابیطس و جنرل فزیشن ڈاکٹر ایس ۔اے ۔ مجید نے بتایا کہ پرانے شہر میں جس رفتار سے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اسے روکنے اور اس پر قابو پانے کیلئے پرانے شہر میں معائنوں کے مراکز کا آغاز کیا جانا ناگزیر ہے کیونکہ گاندھی ہاسپٹل کے نام سے عوام میں خوف پایا جانے لگا ہے اور دیگر کسی مقام پر معائنہ کی سہولت نہ ہونے کے سبب شہری کھانسی اور بخار کو نظرانداز کرتے ہوئے کھانسی و بخار کا علاج کروارہے ہیں جو کہ نہ صرف ان کیلئے بلکہ ان کے افراد خاندان کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک کی تحقیق سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ کورونا وائرس دیگر وبائی امراض کی طرح ہی ہے اور اس میں شرح اموات بھی بہت کم ہے لیکن اس کے لئے بروقت صورتحال پر قابو پایاجانا انتہائی ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر ایس اے مجید نے بتایا کہ عوام میں سماجی دوری اختیار کرنے کا رجحان نہ کے برابر ہے اور ماسک برائے نام استعمال کیا جارہا ہے جو کہ صحت کیلئے انتہائی مضر ثابت ہوسکتا ہے۔انہو ںنے اس مرض کے خوف سے نجات اور مریضوں کو عام شہریوں سے علحدہ کرنے کے لئے معائنوں میں تیزی لانے اور جن مریضوں میں علامات پائی جا رہی ہیں ان کے معائنوں کے ساتھ ان کے افراد خاندان کے معائنوں کو یقینی بناتے ہوئے انہیں گھریلو قرنطینہ میں رکھ کر علاج کیا جاسکتا ہے ۔پرانے شہر میں کی جانے والی بداحتیاطی کے متعلق استفسار پر انہو ںنے بتایا کہ عوام میں بیماری کے متعلق خوف پیدا کیا گیا ہے جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام میں اس بیماری کے متعلق شعور اجاگر کیا جائے اور انہیں اس بات سے واقف کروایا جائے کہ مدافعتی نظام کے مستحکم ہونے کی صورت میں یہ بیماری مہلک ثابت نہیں ہوگی اور نہ ہی اس بیماری سے ہونے والی اموات کی شرح میں کوئی تیز رفتار اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے ۔ جسم کے مدافعتی نظام کے بہتر رہنے پر مرض کی علامتیں بھی نظر نہیں آرہی ہیں اور مرض غائب ہونے لگا ہے لیکن بغیر علامتوں کے شہر میں آزادی کے ساتھ گھومنے والے مریض دوسروں میں کورونا وائرس پھیلانے کا سبب بھی بن رہے ہیں اسی لئے معمولی علامتوں کے ساتھ ہی معائنہ کی سہولت اگر فراہم کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں خانگی پریکٹس کرنے والے ڈاکٹرس بھی یہ معائنہ کرواسکتے ہیں اور ان معائنوں کے رپورٹس کے بعد ہونے والی تصدیق کے ساتھ ہی مریض اور ان کے افراد خاندان کو کورونا وائرس کا علاج کرنے والے دواخانہ سے رجوع کیا جاسکتا ہے ۔ماہر اطباء کا کہناہے کہ موجودہ وبائی امراض کے دورمیں کھانسی ‘ بخار ‘ گلے میں خراش اور نزلہ کو نظر انداز کرنا کورونا وائرس کے معاشرتی پھیلاؤ کو فروغ دینے کے مماثل ہے اسی لئے ڈاکٹر س کو بھی ان بیماریوں کے علاج و معالجہ کے ساتھ مریضوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ۔ان وبائی امراض کی علامتوں کے ساتھ رجوع ہونے والے مریضوں کو عام ادویات دینے کے بجائے ان میں شعور بیدار کرتے ہوئے کورونا وائرس کے معائنہ کیلئے انہیں راضی کروایا جائے کیونکہ معائنہ کروانے میں کوئی قباحت نہیں ہے اور معائنہ کے بعد ہی حقیقت واضح ہوجائے گی ۔