پرانے شہر میں کورونا کیسس میں کمی، میڈیا کے اندیشے غلط ثابت

   

رمضان کے خریداری ہجوم کے باوجود کیسس قابو میں، لاک ڈاؤن سے کیسس میں کمی، عہدیداروں کا دعویٰ

حیدرآباد۔ کورونا کی دوسری لہر کے دوران پرانے شہر کی تجارتی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے بعض الیکٹرانک میڈیا اور سوشیل میڈیا پر یہ ہوّا کھڑا کیا گیا کہ پرانے شہر میں کورونا کے کیسس میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے رمضان المبارک کے دوران نائیٹ کرفیو پر عمل کیا لیکن عید سے عین قبل لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے گریٹر حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں کورونا کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ انکشاف کیا ہے کہ پرانے شہر میں کورونا کیسس کی تعداد شہر کے دیگر علاقوں سے کم ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نائیٹ کرفیو اور لاک ڈاؤن کے نفاذ کے سبب کیسس پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔ عہدیداروں نے ان اندازوں کو غلط قرار دیا کہ رمضان المبارک میں استعمال کی جانے والی غذاؤں کے سبب کیسس میں کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے بعد لاک ڈاؤن سے عوام کی نقل و حرکت پر روک لگائی گئی جس کا فائدہ ہوا۔ عہدیداروں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ پرانے شہر میں کوویڈ قواعد پر عمل آوری کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے مطابق پرانے شہر کے پرانا پل، بیگم بازار، شاہ علی بنڈہ، سعیدآباد، مغلپورہ، موسی رام باغ، گولکنڈہ، مہدی پٹنم اور لنگر حوض علاقوں میں لاک ڈاؤن سے قبل کیسس کی تعداد زیادہ درج کی گئی تھی لیکن لاک ڈاؤن کے بعد سے ان علاقوں میں کورونا کی صورتحال قابو میں ہے۔ جی ایچ ایم سی کے اسپیشل میڈیکل آفیسر نے دعویٰ کیا کہ پرانے شہر میں عوام احتیاطی تدابیر کے بارے میں پہلے کے مقابلہ زیادہ باشعور اور باعمل ہوچکے ہیں۔ لاک ڈاؤن سے قبل حافظ بابا نگر ڈیویژن میں روزانہ 15 تا20 کیسس درج کئے جارہے تھے جو لاک ڈاؤن کے دوران گھٹ کر تقریباً 10 ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دبیر پورہ ، یاقوت پورہ، ملک پیٹ اور اعظم پورہ میں کورونا کی دوسری لہر کے دوران کیسس کی تعداد پہلی لہر سے زیادہ تھی۔ ان علاقوں میں تقریباً ہر خاندان میں کوئی نہ کوئی کورونا سے متاثر ہوا تھا۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے دورن پرانے شہر کے بعض علاقوں میں تجارتی اغراض کیلئے کافی ہجوم دیکھا گیا جس سے اندیشہ تھا کہ کیسس میں اضافہ ہوگا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ عہدیداروں نے کہاکہ رمضان کی مخصوص غذاؤں کے استعمال سے کورونا سے مقابلہ کے بارے میں کوئی سائنیسی ثبوت موجود نہیں ہیں۔ پرانے شہر میں ابھی بھی عوام بخار کا ٹسٹ کرانے سے خوفزدہ ہیں۔ بلدیہ کی جانب سے کئے گئے حالیہ سروے کے مطابق ہر ڈیویژن میں 20 تا 25 مکانات میں بخار کے مریض پائے گئے۔ حکام نے انہیں ادویات فراہم کی اور زیادہ علامتی مریضوں کو ہوم آئسولیشن کا مشورہ دیا گیا۔