پرانے شہر میں کورونا کیسوں میں اچانک اضافہ

,

   

کشن باغ، مغلپورہ اور ضیاء گوڑہ میں نئے کیس، کنٹینمنٹ علاقوں کی تعداد میں پھر اضافہ
حیدرآباد۔/14 مئی، ( سیاست نیوز) گزشتہ تین دن میں گریٹر حیدرآباد حدود میں کورونا پازیٹو کے 157 معاملات منظر عام پر آئے جن میں مائیگرنٹ ورکرس کی خاصی تعداد شامل ہے۔ گریٹر حیدرآباد اور خاص طور پر پرانے شہر میں گزشتہ دو دن میں کورونا کیسس میں اضافہ نے حکام کو تشویش میں مبتلا کردیا ۔ دیگر ریاستوں سے تلنگانہ پہنچے مائیگرنٹ ورکرس کے معائنوں کا آغاز کیا گیا جسکے نتیجہ میں ان میں کئی پازیٹو پائے گئے جس کے بعد پولیس اور بلدی حکام نے چوکسی اختیار کرکے لیبرس کی نقل و حرکت اور ان کے رہائشی مقامات پر کڑی نظر رکھی ہے۔ خصوصی میڈیکل ٹیموں کو تشکیل دیا گیا تاکہ مائیگرنٹ ورکرس کا وقتا فوقتاً ٹسٹ کیا جاسکے۔ گزشتہ ہفتہ کورونا کیسس صرف گریٹر حیدرآباد تک محدود ہوگئے اور اس میں مائیگرنٹس کے اضافہ نے نیا دردِ سر پیدا کردیا ۔ ریڈ زون کے باوجود لاک ڈاؤن کے دوران بعض رعایتوں کا غلط فائدہ اٹھا کر سماجی فاصلہ اور دیگر پابندیوں کی کھلی خلاف ورزی کی گئی جس کے نتیجہ میں شہر میں پھر کورونا وائرس نے سر اُٹھایا ہے۔ پرانے شہر کے کشن باغ ، مغلپورہ اور ضیاء گوڑہ جیسے علاقوں میں کل کورونا پازیٹو پائے مریضوں کو گاندھی ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحدیدات پر عمل میں ناکامی کے سبب کیسس میں اضافہ ہورہا ہے۔ اسی دوران بعض اضلاع سے پازیٹو کیسس کی اطلاعات ملی ہیں جہاں گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے صورتحال قابو میں تھی۔ ریاست میں تاحال پازیٹو کیسس کی جملہ تعداد 1367 تک پہنچ چکی ہے اور 939 افراد صحت یاب ہوکر ڈسچارج کئے گئے۔ فی الوقت 394 مریض ددواخانوں میں زیر علاج ہیں۔ واقعات میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے شہر میں 54 کنٹینمنٹ زونس قائم کئے ہیں تاکہ پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔ 1255 مکانات یا اپارٹمنٹس کو شہر کے مختلف علاقوں میں کنٹینمنٹ زونس کے تحت شامل کیا گیا ہے ۔ زیادہ تر کنٹیمنٹ زون کلثوم پورہ پولیس اسٹیشن کے حدود میں ہیں اسکے علاوہ چادر گھاٹ پولیس اسٹیشن کے حدود میں 6 زون قائم کئے گئے ہیں۔نئے رہنمایانہ خطوط کے تحت حکومت نے کورونا پازیٹو کیس کی صورت میں سارے علاقہ کی ناکہ بندی کے بجائے صرف متاثرہ گھر یا اپارٹمنٹ کو کورنٹائن کرنے کی ہدایت دی ہے۔